قومی خبریں

بالا گھاٹ میں آ کر ایسا لگا، جیسے ہندوستان کے درمیان میں ہی ہندوستان کی حکومت نہیں ہے: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے متاثرہ قبائلی خاندان سے ملنے کے بعد کہا کہ ’’ہم انہیں وَن واسی نہیں بلکہ آدیواسی کہتے ہیں اور یہ ہندوستان کے پہلے مالک ہیں، اس لیے انہیں ملک میں جگہ اور سہولیات ملنی چاہئیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>بالا گھاٹ میں راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا&nbsp;@INCIndia</p></div>

بالا گھاٹ میں راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا @INCIndia

 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی جمعرات (یکم اکتوبر) کو مدھیہ پردیش کے بالا گھاٹ ضلع میں غذائی قلت اور مشتبہ متعدی بیماریوں کے سبب جان گنوانے والے قبائلی بچوں کے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ اس دوران انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت صحت، تعلیم اور روزگار کے معاملے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ راہل گاندھی نے متاثرہ افراد سے ملاقات کی تصاویر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’فیس بک‘ پر شیئر کی جس میں وہ لوگوں سے بات کرتے ہوئے اور ان کے مسائل سنتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’اپنے بچوں کو کھونے سے بڑا دکھ اور کوئی نہیں ہوتا۔ بالا گھاٹ کے یہ قبائلی خاندان آج اسی درد سے گزر رہے ہیں۔ ایک ایسی سانحہ، جسے روکا جا سکتا تھا، لیکن بی جے پی حکومت کی بے توجہی اور غفلت نے ان معصوموں کی جان لے لی۔ اپنی تعزیت کا اظہار کیا، انصاف اور تبدیلی کے لیے طویل گفتگو ہوئی۔‘‘

 متاثرہ اہل خانہ سے ملاقات کے بعد راہل گاندھی نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بالا گھاٹ میں آ کر ایسا لگا، جیسے ہندوستان کے درمیان میں ہی ہندوستان کی حکومت نہیں ہے۔ یہاں بہت سے بچوں کی موت غذائی قلت اور دیگر بیماریوں کے باعث ہوئی ہے، لیکن حکومت کی جانب سے لوگوں کو کوئی مدد نہیں مل رہی ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ’’یہاں پر لوگوں کی زمین سے متعلق مسائل ہیں، جنگلات کے حقوق سے متعلق قانون کا مسئلہ ہے اور منریگا کا بھی مسئلہ ہے۔ کئی خاندانوں نے اپنے بچے کھو دیے، لیکن اب تک نصف لوگوں کو معاوضہ نہیں دیا گیا ہے۔ میں حکومت سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ بالا گھاٹ میں لوگوں کو اسکول اور اسپتال کی سہولت فراہم کیجیے اور انہیں ان کا حق دیجیے۔ بی جے پی حکومت 24 گھنٹے ترقی کی بات کرتی ہے، لیکن ذمہ داری نبھانے کے وقت غائب ہو جاتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اگر حکومت ریاست میں 2 منصوبے چلا رہی ہے تو انہیں دونوں کا فائدہ ملنا چاہیے، لیکن انہیں ایک منصوبہ کا فائدہ دے کر دوسری سے ان کا نام کاٹ دیا جاتا ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’مجھے یہاں کی صورتحال دیکھ کر کافی تکلیف ہوئی ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہے کہ ہم حکومت میں آتے ہی ان کی مدد کریں گے۔ ہم انہیں وَن واسی نہیں بلکہ آدیواسی کہتے ہیں اور یہ ہندوستان کے پہلے مالک ہیں، اس لیے انہیں ملک میں جگہ اور سہولیات ملنی چاہئیں۔ مدھیہ پردیش میں ہر طرف حالات خراب ہیں اور یہ مکمل طور پر مدھیہ پردیش حکومت کی ناکامی ہے۔‘‘ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’بالا گھاٹ میں جس طرح قبائلی بچوں کی جانیں گئیں، وہ مکمل طور پر مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت کی ناکامی ہے۔ میں لوک سبھا میں اس واقعے کے ساتھ ہی ملک میں قبائلیوں کے ساتھ ہو رہی ناانصافی کا مسئلہ اٹھاؤں گا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔