
مرکزی کابینہ کی طرف سے عصمت دری کے قصورواروں کے خلاف پوسکو قانون میں ترمیم کے آرڈیننس کو منظور ملے ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ مودی کابینہ کے وزیر نے ریپ کے حوالہ سے واقعات پر غیر ذمہ دارانہ بیان دے دیا۔ ملک میں بڑھتے ہوئے عصمت دری کے واقعات پر مرکزی وزیر محنت سنتوش گنگوار نے کہا کہ اتنے بڑے ملک میں ایک دو ریپ کے واقعات ہونے پر بتنگڑ نہیں بنانا چاہئے۔ گنگوار یہیں نہیں رکے اور انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ رپ کے واقعات کو روکا نہیں جا سکتا۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ریپ جیسے واقعات بدقسمتی سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ سنتوش گنگوار کے اس بیان نے مودی حکومت کے قول اور فعل کا فرق ملک کے عوام کے سامنے لا دیا ہے۔ یہ پہلا معاملہ نہیں ہے جب بی جے پی اور اس کے رہنماؤں نے عصمت دری جیسے شرمناک واقعات پر دوہرا رویہ ظاہر کیا ہے۔ اس سے قبل ایسا ہی اتر پردیش میں بھی دیکھا جا چکا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت میں ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگرپر ایک نابالغہ سے ریپ کا الزام ہے۔ ممبر اسمبلی کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کو لے کر متاثرہ کئی ماہ تک در در کی ٹھوکریں کھاتی رہی، افسروں کے دفتروں کے چکر لگاتی رہی لیکن ملزم رکن اسمبلی پر کارروائی نہیں ہوئی۔ جب ملک بھر میں اناؤ ریپ معاملہ کے خلاف مظاہرے ہوئے اور الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے رکن اسمبلی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا گیا ، تب کہیں جاکر ملزم رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر اس وقت نابالغہ سے عصمت دری کرنے کے الزام میں جیل کے اندر بند ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔