
تصویر سوشل میڈیا
نئی دہلی: مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت و کسان بہبود بھاگیرتھ چودھری کو قومی باغبانی بورڈ کی ایک سرکاری اسکیم کے تحت 99 لاکھ روپے سے زیادہ کی سبسڈی ملنے کے بعد سیاسی اور عوامی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس معاملے پر اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے وزیر نے کہا ہے کہ انہوں نے تمام ضابطوں پر عمل کرتے ہوئے سبسڈی حاصل کی اور اس میں کسی بھی قسم کی کوئی بات پوشیدہ نہیں رکھی۔
Published: undefined
بھاگیرتھ چودھری نے کہا کہ وہ بچپن سے کسان ہیں اور جدید زرعی طریقوں کو اپناتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے گاؤں میں پانی کی شدید قلت کے باعث پولی ہاؤس قائم کیا، جہاں بارش کا پانی جمع کرکے سال بھر کھیتی اور باغبانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولی ہاؤس میں کھیرا، ٹماٹر اور شملہ مرچ جیسی فصلیں اگائی جاتی ہیں اور کسانوں کو جدید اور قدرتی کھیتی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے پہلی مرتبہ 2018 میں درخواست دی تھی، تاہم اس وقت ضروری دستاویزات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے درخواست منظور نہیں ہو سکی۔ بعد میں دوبارہ درخواست دی گئی اور تمام ضابطے پورے ہونے کے بعد منصوبہ منظور ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں کسان اسی اسکیم کے تحت سبسڈی حاصل کر رہے ہیں اور انہوں نے بھی اسی حق کے تحت فائدہ اٹھایا ہے۔
Published: undefined
ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق بھاگیرتھ چودھری کو رواں برس مارچ میں مشن برائے مربوط ترقی باغبانی کے تحت 99.03 لاکھ روپے کی سبسڈی دی گئی۔ یہ اسکیم قومی باغبانی بورڈ کے ذریعے چلائی جاتی ہے، جبکہ مرکزی وزیر مملکت برائے زراعت اس بورڈ کے نائب صدر بھی ہیں۔ اسی بنیاد پر مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ بورڈ کے صدر یا نائب صدر منصوبوں کی منظوری دینے والی کمیٹی کا حصہ نہیں ہوتے، اس لیے منظوری کا فیصلہ تکنیکی جانچ کے بعد متعلقہ کمیٹی کرتی ہے۔ منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً ایک کروڑ 99 لاکھ روپے بتائی گئی ہے، جس میں بینک قرض اور سرکاری سبسڈی شامل ہے۔
Published: undefined
وزیر کے مطابق ان کے فارم پر ایک معلوماتی بورڈ بھی نصب ہے، جس پر منصوبے کی لاگت، قرض اور سبسڈی کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نہ تو کسی حقیقت کو چھپایا اور نہ ہی کسی ضابطے کی خلاف ورزی کی۔ ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کو مزید معلومات درکار ہوئیں تو وہ فراہم کر دی جائیں گی۔
اس معاملہ پر کانگریس نے بھی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایکس پر لکھا، ‘‘مودی حکومت کے وزیر بھاگیرتھ چودھری نے کھیرے کی زراعت کے لیے اپنی ہی وزارت سے 99 لاکھ روپے کی سبسیڈی اٹھا لی۔ وزیر بننے کے کچھ ہی ماہ بعد یہ کھیل کیا گیا۔ بھاگیرتھ نے اپریل 2025 میں سبسیڈی کا مطالبہ کیا اور صرف 14 دن میں منظوری بھی مل گئی۔ یہ سیدھے طور سے عہدہ کے غلط استعمال کا معاملہ ہے۔ وزیر بن کر عوام کے پیسوں کی لوٹ کا معاملہ ہے۔‘‘
اس معاملہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے، ’’نریندر مودی نے اپنے وزراء کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ پیغام صاف ہے– خود کھاؤ، مجھے بھی کھلاؤ، جم کر لوٹ مچاؤ۔‘‘ کانگریس نے اس معاملہ میں بھاگیرتھ چودھری کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined