
امتحان کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ذریعہ منعقدہ یو جی سی-نیٹ امتحان ایک بار پھر تنازعہ میں ہے۔ اس بار سماجیات (سوشیولوجی) مضمون کا پیپر سوالات کے گھیرے میں ہے۔ 30 جون کو منعقدہ اس امتحان میں شامل ہوئے امیدواروں نے الزام عائد کیا ہے کہ پیپر میں ایک یا دو نہیں بلکہ بے شمار غلطیاں موجود تھیں۔ طلبہ کا غصہ اس بات پر ہے کہ ملک کے اتنے معتبر اہلیتی امتحان کا پیپر تیار کرنے میں لاپرواہی کیسی برتی گئی۔
Published: undefined
امتحان دے کر باہر نکلے طلبہ نے سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع سے اپنی شکایات درج کرائی ہیں۔ امیدواروں کے مطابق سماجیات کے سوالنامہ میں درجہ ذیل خامیاں دیکھنے کو ملیں:
املا کی غلطیاں: پیپر میں کئی الفاظ کے ہجے غلط لکھے ہوئے تھے
مفکرین کے غلط نام: سماجیات کے کئی معروف ممتاز ماہرین سماجیات کے نام سوالنامے میں غلط لکھے گئے تھے، جس سے طلبہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا
ناقص ہندی ترجمہ: انگریزی سے ہندی میں کیا گیا ترجمہ اتنا ناقص تھا کہ سوالات کا اصل مفہوم ہی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا
قواعد کی غلطیاں: جملوں کی ساخت اور گرامر میں سنگین خامیاں موجود تھیں
نصاب سے باہر کے سوالات: کئی سوالات ایسے تھے جو مقررہ نصاب سے بالکل الگ معلوم ہو رہے تھے
Published: undefined
طلبہ کا دعویٰ ہے کہ یہ محض چھوٹی موٹی ٹائپنگ کی غلطیاں نہیں تھیں، بلکہ یہ صاف طور پر پیپر سیٹ کرنے اور کوالیٹی چیک کرنے والی ٹیم کی شدید لاپرواہی اور کمزور نظام کو بے نقاب کرتا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اس پورے معاملے پر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کا باضابطہ ردعمل آیا ہے۔ این ٹی اے ذرائع نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ٹائپنگ کی چھوٹی موٹی غلطیاں ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ہمیں اس معاملے کی اطلاع میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ملی ہے اور ہم اس پورے معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ تاہم ایجنسی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اب تک اس بے ضابطگی کے متعلق آفیشیل طور پر کسی بھی طالب علم کی طرف سے کوئی تحریری شکایت براہ راست این ٹی اے کو موصول نہیں ہوئی ہے۔
Published: undefined
اس درمیان سوشل میڈیا پر یو جی سی-نیٹ سوشیولوجی پیپر کو لے کر بحث چھڑ گئی ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ترجمہ کی غلطیوں اور غلط ناموں کی وجہ سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہوا ہے اور اس کا براہ راست اثر ان کے اسکور اور کٹ آف پڑ سکتا ہے۔ امیدوار مطالبہ کر رہے ہیں کہ این ٹی اے کو اس مضمون کے ماہرین کی ایک کمیٹی بنا کر پورے پیپر کا دوبارہ جائزہ لیا جانا چاہیے اور متنازعہ سوالات کے لیے طلبہ کو بونس نمبر دیے جانے چاہئیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined