
اگرتلہ: شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) کے خلاف غیر معینہ ہڑتال کے دوسرے دن کا مظاہرہ جس کی حمایت علاقائی قبائلی پارٹیوں ، غیر سرکاری تنظیموں اور طلبہ تنظیموں کے گروپ جوائنٹ موومنٹ اگینسٹ سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل (جے ایم اے سی اے بی) نے کی ہے، پرتشدد شکل اختیار کرلی ہے۔
Published: undefined
متعددتشدد پسندانہ واقعات کےبعد تریپورہ کی حکومت نے دو دنوں کے لئے تمام انٹرنیٹ فراہم کرنے والی سروسز سے موبائل ڈاٹا سروس اور ایس ایم ایس خدمات روکنے کے لئے کہا ہے۔ اس کےعلاوہ تشدد زدہ علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے تشدد پھیلنے سے روکنے کے لئے مزید فورسیز کو حرکت دے دی ہے جبکہ جے ایم اے سی اےبی نے شہریت ترمیمی بل کو تریپورہ کے لئے ختم کرنے تک مسلسل مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
Published: undefined
پولس نےبتایا کہ شمالی تریپورہ اور دھلائی ضلعوں کے متعدد بازاروں میں کم ازکم سات افراد جن میں پولس بھی شامل ہیں، مظاہرین کے حملے میں زخمی ہوگئے ہیں۔کرپاسندو چکرورتی نامی ایک فروٹ فروش قومی شاہراہ پر واقع مانوگھاٹ میں سنگین طور سے زخمی ہوگیا جب مظاہرین نے اس کے سر پر دکان کھلی ہونے کی وجہ سے تیزدھار ہتھیار سے حملہ کردیا۔
Published: undefined
82 مائلز مارکیٹ ، منوگھاٹ بازار، کولائی اور دھلائی ضلع کے نیلافا بازار میں مظاہرین نے بند کی خلاف وززی کی وجہ سےمتعدد دکانیں کو تباہ کردیں ۔ اسی طرح انہوں نے آٹھ موٹر سائیکلوں کو بھی آگ کے حوالے کردیا۔ شہریت ترمیمی بل کی خلاف مظاہرین نے کنچن پور میں بازار میں متعدد دکانوں میں توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے دیسی بم کو مارکیٹ میں پھینکا اور پولس نے حالات کو قابومیں کرنے کے لئے چار راؤنڈ فائر بھی کئے۔
Published: undefined
سیپاہی جالا ضلع کے بشرام گنج ، ادے پور اورگومتی ضلع کے امرپور علاقے میں بازار، اسکول اور پبلک ادارے مظاہرین کے دوپہر کے بعد اکٹھے ہونے کی وجہ سے بند کردیئے گئے۔مظاہرین نے صبح میں شہر کے قلب میں گاڑیوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالی اور اسکول اور آفس جانے والوں کو روک دیا۔
تریپورہ حکومت نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ اپنی تحریک کو فوری طور سے روک دیں جس کی وجہ سے عام معمول کی زندگی بہت متاثر ہوئی ہے اور انتظامیہ سے کہا کہ وہ معمول کی زندگی بحال ہونے تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہ بیٹھیں۔ریاستی حکومت کے ترجمان اور وزیر قانون رتن لال ناتھ نے کہا کہ وہ حالات پر گہری نظر رکھ رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined