راہل گاندھی، تصویر بشکریہ @INCIndia
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران احتجاج کرنے والے یوتھ کانگریس کے لیڈران و کارکنان کی گرفتاری اور ملک میں ہونے والے عوامی احتجاج کو طاقت کے دم پر کچلنے کے متعلق راہل گاندھی نے مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’آج ہندوستان میں کمپرومائزڈ وزیر اعظم کے راج میں پرامن احتجاج کرنا ہی سب سے بڑا جرم بنا دیا گیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو آہستہ آہستہ ایسی سمت میں دھکیلا جا رہا ہے، جہاں اختلاف رائے کو غداری اور سوال پوچھنے کو سازش بتایا جاتا ہے۔‘‘
Published: undefined
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’سوچیے مسئلہ کوئی بھی ہو، اگر آپ اقتدار کے خلاف آئینی طریقے سے آواز اٹھاتے ہیں تو لاٹھی، مقدمہ اور جیل یہ تقریباً طے ہے۔ پیپر لیک سے پریشان نوجوانوں نے اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھائی جواب ملا لاٹھیوں سے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ملک کی قابل فخر خاتون پہلوانوں نے بی جے پی کے بااثر رہنما پر لگے سنگین الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کی پکار کو بدنام کیا گیا، تحریک کو کچلا گیا، اور انہیں سڑکوں سے جبراً ہٹایا گیا۔‘‘
Published: undefined
کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’ایک عصمت دری کی متاثرہ لڑکی کی حمایت میں انڈیا گیٹ پر پرامن مظاہرہ ہوا۔ انصاف کے مطالبے کو نظام کے لیے رکاوٹ سمجھ کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یوتھ کانگریس نے ملک کو نقصان پہنچانے والی ’یو ایس ٹریڈ ڈیل‘ (امریکی تجارتی معاہدے) کے خلاف پرامن احتجاج کیا تو انہیں ملک دشمن قرار دے کر گرفتار کر لیا گیا۔ جب عام لوگ زہریلی ہوا کے خلاف کھڑے ہوئے، تو ماحولیات کی فکر کو بھی سیاست کہہ کر دبا دیا گیا۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی کے مطابق جب کسانوں نے اپنے حقوق کے لیے تحریک چلائی، تو انہیں ملک دشمن قرار دے دیا گیا۔ آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں، پانی کی بوچھاڑیں اور لاٹھیاں ہی مذاکرات کا ذریعہ بنیں۔ جب آدیواسی اپنے جل (پانی)، جنگل اور زمین کے حق کے لیے کھڑے ہوئے، تو ان پر بھی شک کی نظر ڈالی گئی - گویا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا جرم ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ’’یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں کمپرومائزڈ وزیر اعظم سوالوں سے ڈرتے ہیں؟ جہاں اختلاف رائے کو کچلنا طرز حکومت کا حصہ بنتا جا رہا ہے؟‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی نے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’پرامن احتجاج جرم نہیں، جمہوریت کی روح ہے۔ سوال پوچھنا جمہوریت کی کمزوری نہیں، اس کی طاقت ہے۔ جمہوریت تب مضبوط ہوتی ہے جب حکومت تنقید سنتی ہے، جواب دیتی ہے اور جوابدہ رہتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی جی، یہ شمالی کوریا نہیں، ہندوستان ہے۔ جب اقتدار خود کو ریاست سمجھنے لگے اور اختلاف رائے کو دشمن تب جمہوریت دم توڑ دیتی ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined