قومی خبریں

’یہ بل پارلیمنٹ کو کمزور کر اقتدار قائم رکھنے کی کھوکھلی کوشش‘، خواتین ریزرویشن بل پر کانگریس لیڈران کا تلخ تبصرہ

منیش تیواری نے لوک سبھا میں کہا کہ ’’یہ خواتین ریزرویشن کا بل نہیں، بلکہ حلقہ بندی کا بل ہے، جس پر خواتین ریزرویشن کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔ خواتین ریزرویشن تو سال 2023 میں ہی منظور ہو گیا تھا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

لوک سبھا میں آج خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن اور حد بندی معاملہ پر بحث ہوئی، جس میں کانگریس لیڈران نے مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ خاص طور سے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اگر وہ (پی ایم مودی) اس تاریخی قدم (خواتین ریزرویشن) کو ایمانداری سے اٹھاتے، تو پورا ایوان متحد ہو کر اسے پاس کرتا۔ لیکن ملک کی خواتین کے نام پر ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش نے اس بل کا مقصد ہی بدل ڈالا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ بل پارلیمنٹ کو کمزور کر اقتدار قائم رکھنے کی کھوکھلی کوشش ہے۔‘‘

Published: undefined

پرینکا گاندھی نے اپنی باتوں کو بہت تفصیل کے ساتھ اور انتہائی واضح انداز میں ایوان زیریں کے سامنے رکھا۔ کانگریس کے دیگر لیڈران نے بھی ایوان میں اپنی بات رکھ کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ کانگریس خواتین ریزرویشن کی حامی ہے اور اسے فوراً نافذ کرنے کے حق میں ہے۔ لیکن جس طرح مودی حکومت اسے لانا چاہتی ہے، وہ خواتین ریزرویشن کے بہانے سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ذیل میں پیش ہیں کانگریس لیڈران کے کچھ اہم بیانات۔

Published: undefined

پرینکا گاندھی:

نریندر مودی مسائل سے گھرے ہوئے ہیں، ان پر بہت بین الاقوامی دباؤ ہے۔ حالات یہ ہیں کہ خواتین ریزرویشن جیسے تاریخی قدم کو انہوں نے اقتدار برقرار رکھنے کا ایک کمزور بہانہ بنا دیا ہے۔ نریندر مودی ذات پر مبنی مردم شماری کو مسترد کرتے ہوئے ایک ایسی پارلیمنٹ بنانا چاہتے ہیں، جہاں اظہار رائے کے ساتھ ہی پسماندہ طبقات اور ریاستوں کی برابری کا بھی فقدان ہوگا۔

  • آخر آج انہی 543 لوک سبھا نشستوں میں سے خواتین کو ریزرویشن کیوں نہیں دیا جا سکتا؟

  • انہی نشستوں میں ایس سی-ایس ٹی، او بی سی خواتین کا مناسب ریزرویشن کیوں نہیں تقسیم کیا جا سکتا؟

یہ ریزرویشن آج ہی منظور ہو سکتا ہے، اس سے بلاوجہ کے غیر عملی حلقہ بندی سے ملک کا نقصان بھی نہیں ہوگا۔

Published: undefined

کے سی وینوگوپال:

  • اس ایوان نے 2023 میں متفقہ طور پر خواتین ریزرویشن بل منظور کیا تھا۔ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو اسے 2024 میں نافذ کیا جا سکتا تھا۔ اس کے بجائے وہ اس مسئلے کو سیاسی ڈرامے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

  • وزیر اعظم نے پنچایتوں کے بارے میں بات کی اور خواتین کو بااختیار بنانے پر اطمینان ظاہر کیا۔ لیکن انہیں یہ طاقت کس نے دی؟ کیا یہ بی جے پی نے دی؟ نہیں، یہ کانگریس نے دی۔ راجیو گاندھی نے یہ ویژن دیا تھا اور ہمیں ان کے تاریخی فیصلوں کو سلام کرنا چاہیے۔

  • حلقہ بندی کو 2029 کے انتخابات سے پہلے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

  • بار بار درخواستوں کے باوجود کل جماعتی میٹنگ کیوں نہیں بلائی گئی؟ اگر یہ آئینی بل ہے تو کیا اسے اپوزیشن کی حمایت کی ضرورت نہیں؟

  • میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ بل واپس لے، مشاورت کرے اور متفقہ منظوری کے لیے ایک واضح تجویز کے ساتھ واپس آئے۔

Published: undefined

منیش تیواری:

یہ خواتین ریزرویشن کا بل نہیں ہے، بلکہ حلقہ بندی کا بل ہے، جس پر خواتین ریزرویشن کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔ کیونکہ خواتین ریزرویشن تو سال 2023 میں ہی منظور ہو گیا تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ 2023 کے بعد کی مردم شماری اور حلقہ بندی کے بعد خواتین ریزرویشن کو نافذ کیا جائے گا۔ پچھلے 30 مہینوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ 2023 کے بعد کی مردم شماری کی بات کرنے والی حکومت 2011 کی مردم شماری پر پہنچ گئی۔ اس بات کا جواب مودی حکومت کو دینا ہوگا۔

بل میں لکھا گیا ہے کہ کل نشستیں 850 ہوں گی، حلقہ بندی 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہوگی اور اس حساب سے ایک لوک سبھا حلقے میں 14.85 لاکھ ووٹ ہوں گے۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ ملک کے مختلف حصوں میں نشستیں بڑھیں گی۔ ایسے میں سوال تناسب کا نہیں بلکہ تعداد کا ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں نشستوں کی تعداد 815 یا 850 ہوگی تو چھوٹی ریاستوں کا غلبہ کم ہو جائے گا۔

مودی حکومت جو یہ بل لے کر آئی ہے، اس کے مطابق اتر پردیش کی حلقہ بندی ہو ہی نہیں پائے گی، کیونکہ حکومت نے دفعہ (1)170 میں ترمیم ہی نہیں کی۔ دفعہ (1)170 کہتی ہے کہ 60 نشستوں سے کم اور 500 نشستوں سے زیادہ کی اسمبلی نہیں ہو سکتی۔ اب اگر یوپی کی حلقہ بندی ہوگی تو وہاں اسمبلی نشستیں تو 560 تک پہنچ جائیں گی۔ ایسے میں حکومت یوپی میں حلقہ بندی کیسے کرے گی، کیونکہ انہوں نے تو دفعہ (1)170 میں ترمیم ہی نہیں کی۔

Published: undefined

پرینیتی شندے:

خواتین ریزرویشن ملک کی نصف آبادی کی عزت، حقوق اور وجود سے جڑا موضوع ہے۔ اس لیے پورا اپوزیشن خواتین ریزرویشن کے حق میں ہے۔ ہم خواتین ریزرویشن کو جلد از جلد نافذ کروانا چاہتے تھے، لیکن مودی حکومت نے مردم شماری اور حلقہ بندی کا سبب بتاتے ہوئے اسے آگے بڑھا دیا۔ مودی حکومت خواتین ریزرویشن کی آڑ میں نہ صرف انتخابی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، بلکہ بغیر نئی مردم شماری کرائے حلقہ بندی کا بل بھی منظور کروانا چاہتی ہے۔

Published: undefined

ڈاکٹر محمد جاوید

کانگریس پارٹی اور سی پی پی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے پہلے بھی کہا تھا کہ خواتین ریزرویشن کو لوک سبھا 2024 کے انتخابات کے ساتھ ہی نافذ کر دیجیے۔ تب حکومت نے کہا تھا کہ پہلے مردم شماری ہوگی، پھر حلقہ بندی ہوگی اور اس کے بعد خواتین ریزرویشن نافذ کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہی ہے تو خواتین ریزرویشن کی بات ابھی کیوں کی جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے کی اصل کہانی یہ ہے کہ مودی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کرانا چاہتی۔ اگر سونیا گاندھی کی بات حکومت مانتی تو پارلیمنٹ میں خواتین اراکین کی تعداد زیادہ ہوتی۔

مودی حکومت خواتین ریزرویشن کے مسئلے کو آگے کر بیک ڈور سے حلقہ بندی کرانا چاہتی ہے، تاکہ 2029 کے انتخابات کی تیاری کی جا سکے۔ یہ حکومت خواتین مخالف، ایس سی/ایس ٹی اور اقلیت مخالف ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined