
لوک سبھا / آئی اے این ایس
مرکزی حکومت نے ملک کے جمہوری ڈھانچے میں بڑی تبدیلی لانے والے 3 اہم بلوں کا مسودہ اراکین پارلیمنٹ کو دیا ہے۔ مرکزی حکومت آئین (131ویں ترمیم) بل، حد بندی بل اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ قانون (ترمیم) بل 2026 جلد پاس کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ تینوں بل آئندہ مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا سیٹوں کی تعداد بڑھا کر 850 کرنے، انتخابی حلقوں کی نئے سرے سے حد بندی اور خواتین ریزرویشن کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ حکومت کے اس قدم کے ساتھ ہی کئی دہائیوں سے زیر التوا سیٹوں کی تنظیم نو اور لسانی و علاقائی نمائندگی کے نئے نظام کی باقاعدہ منظوری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ یہ تینوں بل ہندوستان کے سیاسی ڈھانچے اور سیٹوں کی حد بندی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تجویز پیش کرتے ہیں:
یہ بل لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ 815 (ریاستوں سے) اور 35 (مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے) تک بڑھانے کا التزام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آبادی کی تعریف کو تبدیل کرتا ہے تاکہ انتخابی حلقوں کی از سر نو ترتیب پارلیمنٹ کے ذریعہ طے شدہ تازہ ترین مردم شماری کی بنیاد پر کی جا سکے۔
یہ تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی سیٹوں کی تقسیم اور انتخابی حلقوں کی تقسیم کے لیے ایک حد بندی کمیشن کی تشکیل کا التزام کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جسٹس کمیشن کے صدر ہوں گے۔
یہ بل پڈوچیری، دہلی اور جموں و کشمیر کے قوانین میں ترمیم کرتا ہے تاکہ انہیں نئے حد بندی قوانین اور خواتین کے ریزرویشن (آئین کی دفعہ 334اے) کے مطابق بنایا جا سکے۔ اس کے تحت پڈوچیری میں نامزد اراکین کی تعداد بڑھا کر 5 کرنے کی تجویز ہے، جن میں 2 خواتین ہوں گی۔
Published: undefined
اراکین پارلیمنٹ کو سونپے گئے تینوں بل (آئین ترمیم، حد بندی اور مرکز کے زیر انتظام قانون) یہ واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان کی انتخابی سیاست اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کی دہلیز پر ہے۔ آئین (131 ویں ترامیم) بل 2026 کے مطابق لوک سبھا کے اراکین کی تعداد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں 815 اراکین ریاستوں سے اور 35 مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ہوں گے۔ فی الحال لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 550 (543 موثر) ہیں۔ 300 سے زائد سیٹوں کا یہ اضافہ گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی جمہوری توسیع ہے۔ اب تک سیٹوں کی تقسیم 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر اٹکی ہوئی تھی۔ بل 107 کے ذریعہ دفعہ 82 اور 170 میں ترمیم کی تجویز ہے۔ اس کے تحت آبادی کا مطلب وہ نئی مردم شماری ہوگی جس کے اعداد و شمار پارلیمنٹ کے ذریعہ طے کیے جائیں گے۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ 2026 کے کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری ہی نئی سیٹوں کی تقسیم کی بنیاد بنے گی۔
Published: undefined
حد بندی بل 2026 (بل 108) ایک طاقتور حد بندی کمیشن کی تشکیل کا راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ کمیشن طے کرے گا کہ آبادی کے تناسب سے کس ریاست کو کتنی اضافی سیٹیں ملیں گی۔ اس میں عدالتی اور انتظامی شفافیت کو برقرار رکھنے لیے سپریم کورٹ کے ججوں اور الیکشن کمیشن کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن شمالی اور جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کے درمیان آبادی پر مبنی نمائندگی کے عدم توازن کو بھی ختم کرے گا۔ تیسرا بل (109) مرکز کے زیر انتظام علاقوں (دہلی، پڈوچیری، جموں و کشمیر) کے قوانین میں تبدیلی لاتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ 106ویں آئینی ترمیم (ناری شکتی وندن ادھینیم) کے تحت 33 فیصد خواتین ریزرویشن نئی حد بندی کے ساتھ نافذ ہو۔ اس میں پڈوچیری جیسے علاقوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے خصوصی التزام کیے گئے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined