
راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے مغربی بنگال کے آسنسول میں کانگریس کارکن دیب دیپ چٹرجی کے قتل کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے کارکنان پر دیب دیپ کے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مغربی بنگال میں آج جمہوریت نہیں بلکہ ٹی ایم سی کا غنڈہ راج چل رہا ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے اتوار (26 اپریل) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس کارکن دیب دیپ چٹرجی کا ووٹنگ کے بعد ٹی ایم سی سے وابستہ غنڈوں کے ہاتھوں قتل، انتہائی قابل مذمت ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کارکن دیب دیپ چٹرجی کے اہل خانہ سے اپنی دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’مغربی بنگال میں آج جمہوریت نہیں بلکہ ٹی ایم سی کا غنڈہ راج چل رہا ہے۔ ووٹنگ کے بعد مخالف آوازوں کو ڈرانا، دھمکانا اور ختم کر دینا ہی اب ٹی ایم سی کا کردار بن چکا ہے۔‘‘
Published: undefined
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس کی سیاست کبھی تشدد پر مبنی نہیں رہی اور نہ کبھی ہوگی۔ ہم نے بھی اپنے کارکن کھوئے ہیں، اس کے باوجود ہم نے ہمیشہ عدم تشدد اور آئین کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہی ہماری وراثت ہے اور یہی ہمارا عزم ہے۔‘‘ ساتے ہی انہوں نے لکھا کہ ’’مطالبہ واضح ہے، تمام مجرموں کی فوری گرفتاری ہو، انہیں سخت ترین سزا دی جائے اور دیب دیپ کے خاندان کے لیے مکمل تحفظ اور معاوضے کو یقینی بنایا جائے‘‘ راہل گاندھی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’ہم اس سیاست کے سامنے نہیں جھکیں گے جو ہندوستان کی عدم تشدد کی روایت کو داغدار کرتی ہے۔ انصاف ہو کر رہے گا۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی سے قبل کانگریس کی مغربی بنگال یونٹ نے الزام عائد کہ دیب دیپ پر حکمراں جماعت ترنمول کانگریس سے وابستہ شرپسندوں نے حملہ کیا اور انہیں بے رحمی سے پیٹا، جس کے کچھ ہی دیر بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ کانگریس کی ریاستی اکائی کے مطابق دیب دیپ چٹرجی کو آسنسول نارتھ سے کانگریس امیدوار پرسین جیت پوئی تانڈی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے جانا جاتا تھا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’یہ افسوسناک واقعہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال کے مکمل طور پر تباہ ہونے کی عکاسی کرتا ہے اور مغربی بنگال میں اپوزیشن کارکنان کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ یہ حقیقت کہ ووٹنگ کے فوراً بعد اس طرح کا تشدد ہوا، سیاسی دھمکیوں اور انتقامی جذبے کے ایک انتہائی تشویشناک رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined