قومی خبریں

’سچائی یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت کو امریکہ میں بیٹھا ایک دلال چلا رہا تھا‘، ایپسٹین فائلز معاملہ پر کانگریس کا تلخ تبصرہ

پون کھیڑا نے کہا کہ 13 نومبر 2014 کو ریڈ ہاف مین کو ایپسٹین نے ایک میل بھیجا، جس میں وہ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کی جانکاری دے رہا تھا، جبکہ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ جولائی 2015 میں شروع ہوا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا</p></div>

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا

 

تصویر: پریس ریلیز

’ایپسٹین فائلز‘ معاملہ پر کانگریس لگاتار مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کو ہدف تنقید بنا رہی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے۔ خاص طور سے ہردیپ سنگھ پوری کے جوابی حملوں اور ان کے بیانات کو سامنے رکھ کر کانگریس کے سرکردہ لیڈران ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کئی بار کر چکے ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی ترجمان پون کھیڑا نے آج پریس کانفرنس میں ایک بار پھر ہردیپ سنگھ پوری سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، اور ان کے کئی بیانات کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔

Published: undefined

پون کھیڑا نے کہا کہ ’’گزشتہ کچھ وقت سے ایپسٹین فائلز کو لے کر پوری دنیا میں بحث جاری ہے۔ اس معاملہ میں 7 ممالک کے لیڈران نے استعفے دیے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ نریندر مودی اور ہردیپ سنگھ پوری کا نام بھی اس میں شامل ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہردیپ سنگھ پوری نے اس بارے میں منھ کھولا، کچھ انٹرویوز دیے جن میں جم کر جھوٹ بولا۔ یہ وہی ہردیپ سنگھ پوری ہیں جنھیں بغیر رکن پارلیمنٹ بنے ہی نریندر مودی نے وزیر بنا دیا۔‘‘

Published: undefined

ہردیپ سنگھ پوری کے کچھ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’ہردیپ سنگھ پوری نے کہا، جب وہ پہلی بار ایپسٹین سے ملنے جا رہے تھے تو انھیں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، کیونکہ انھیں کہا گیا تھا کہ ڈرائیور انھیں چھوڑ دے گا۔ یہ کتنا شرمناک ہے کہ ایسی بات ایک خارجہ سروس کا افسر کہہ رہا ہے، جو کہ امریکہ میں سفیر تھا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں ’’ہردیپ سنگھ پوری نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ایپسٹین سے ملنے جاتے وقت اچھا محسوس نہیں کیا تو گوگل کیا کہ کہاں جا رہا ہوں، اور پھر آپس میں پوچھا کہ کیا ایپسٹین سے ملنے جانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ سب ہوا تو کیا ہردیپ سنگھ پوری بچے تھے؟‘‘ پون کھیڑا نے مزید کہا کہ ’’ہردیپ پوری کہتے ہیں– ہم لوگوں میں سے کچھ کو ایپسٹین کے کریمنل ریکارڈ ہونے پر شبہ تھا۔ جبکہ 2008 میں ہی ایپسٹین نے عدالت میں اپنا گناہ قبول کر لیا تھا، اسے سزا ہو گئی تھی۔ ایپسٹین کے گناہ قبول کرنے کے بعد بھی 2014 میں ہمارے وزیر ہردیپ پوری کے من میں شبہ تھا۔ یہ وزیر ہیں، یہ ان کی اخلاقیات کا معیار ہے۔ ایسی صورت میں ہردیپ پوری کو کس طرح درست ٹھہرایا جا سکتا ہے؟‘‘

Published: undefined

پون کھیڑا بات کو اتنے پر ہی ختم نہیں کرتے ہیں۔ ہردیپ پوری کی کئی باتوں کو وہ جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’ہردیپ پوری نے ایک انٹرویو میں کہا– میری ایپسٹین سے زیادہ بات نہیں ہوئی۔ ایک دو ای میل ہوئے اور تین چار بار ملاقات ہوئی۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ہردیپ پوری نے مزید ایک انٹرویو میں کہا– میں نے کبھی اپوائنٹمنٹ نہیں مانگا۔ یہ بات بھی جھوٹ ہے، کیونکہ ہردیپ پوری خود پوچھتے تھے ’جیف، کیا میں آپ سے ملاقات کر سکتا ہوں؟‘، ’جیف، کیا آپ شہر میں ہیں؟‘ جب ہردیپ پوری نے کبھی اپوائنٹمنٹ نہیں مانگا، تو پھر یہ سب کیا تھا۔ کیا آپ پر مودی کا دباؤ تھا کہ جائیے اور ایپسٹین سے ملیے۔‘‘ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ’’16-2014 کے درمیان ہندوستان کے 3 سفیر امریکہ میں رہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کس کی ہدایت پر ریٹائر ہو چکے ہردیپ سنگھ پوری کو ایپسٹین سے ملنے بھیجا جاتا تھا؟‘‘

Published: undefined

کانگریس ترجمان نے ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کا ذکر بھی پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’13 نومبر 2014 کو ریڈ ہاف مین کو ایپسٹین نے ایک میل بھیجا، جس میں وہ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کی جانکاری دے رہا تھا۔ جبکہ ’ڈیجیٹل انڈیا‘ جولائی 2015 میں شروع ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہردیپ پوری نے ہندوستان کے شہریوں سے پہلے ہی ایپسٹین کو ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کی جانکاری دے دی تھی۔‘‘ تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے پون کھیڑا نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم سوچ رہے تھے اس ملک کی حکومت کو ایک ’مائی کا لال‘ چلا رہا تھا، جبکہ سچائی یہ ہے کہ امریکہ میں بیٹھا ’ایک دلال‘ چلا رہا تھا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’ہردیپ پوری کہہ رہے ہیں– میں ایپسٹین کو ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کی جانکاری دے رہا تھا۔ اب سوال ہے کہ ہردیپ پوری کو یہ جانکاری کہاں سے ملی، وہ تو حکومت کا حصہ نہیں تھے۔‘‘

Published: undefined

ان باتوں کو سامنے رکھنے کے بعد پون کھیڑا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے کچھ چبھتے ہوئے سوالات رکھ دیے۔ انھوں نے پوچھا کہ ’’آپ ہردیپ پوری کے ذریعہ سے ملک کی جانکاری کسے اور کیوں دلوا رہے تھے؟ آخری مودی جی، ہردیپ پوری اور ایپسٹین کا کیا رشتہ ہے؟‘‘ پھر وہ واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’ہردیپ پوری صرف ریڈ ہاف مین کے میل کی باتیں بتا رہے ہیں اور باقی سب چھپانا چاہتے ہیں۔ ہردیپ پوری صرف جھوٹ بول رہے ہیں کہ میری ایپسٹین سے بات ہی نہیں ہوتی تھی۔ سچائی یہ ہے کہ کافی پینے آپ جاتے تھے، ’ہیو فَن‘ آپ لکھتے تھے... یعنی آپ سب کچھ جانتے تھے۔‘‘

Published: undefined

پریس کانفرنس کے آخر میں بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’زانیوں کو پیرول دلوا کر مالائیں پہنانا، انھیں ایم پی-ایم ایل اے بنانا بی جے پی کی پرانی عادت رہی ہے۔ لیکن میڈیا کا معیار دیکھیے کہ وہ بھی ایپسٹین کو دفاع کر رہا ہے۔ ہمیں یہ دیکھ کر صدمہ لگا ہے، ایسی صحافت پر لعنت ہے۔‘‘ انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’ایپسٹین فائلز‘ میں ایسا کیا ہے جو نریندر مودی پہلے جیسے نہیں رہے؟ طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’جنھوں نے اپنی تشہیر ’گھر گھر مودی‘ سے شروع کی تھی، وہ آج ’تھر تھر مودی‘ ہو گئی ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined