قومی خبریں

شیئر بازار کھلتے ہی مچا کہرام، اربوں روپے خاک میں ملے، نفٹی 23000 کے نیچے پہنچا

شیئر بازار میں گراوٹ کے درمیان تقریباً تمام زمروں میں زبردست اتھل پتھل نظر آئی۔ بڑی کمپنیوں کے شیئر تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر اسٹاک مارکیٹ</p></div>

علامتی تصویر اسٹاک مارکیٹ

 

شیئر بازار میں سرمایہ لگانے والوں کے لیے ہفتہ کے پہلے دن کی شروعات انتہائی خراب رہی۔ سینسیکس اور نفٹی دونوں انڈیکس کاروبار شروع ہوتے ہی کریش ہو گئے۔ ایک طرف بمبئی اسٹاک ایکسچینج کا 30 شیئر والا سینسیکس بازار کھلتے ہی 850 پوائنٹس سے زیادہ گر گیا، تو دوسری طرف نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی انڈیکس ایک ہی جھٹکے میں 23000 کی سطح سے نیچے آ گیا۔ شیئر بازار میں اس زبردست گراوٹ کے باعث سرمایہ کاروں کے اربوں روپے خاک میں مل گئے۔

پیر کے روز شیئر بازار میں کاروبار شروع ہوتے ہی افراتفری کا ماحول نظر آنے لگا۔ بی ایس ای کا سینسیکس گزشتہ جمعہ کو 73,895 پر بند ہوا تھا، جبکہ پیر کو یہ گراوٹ کے ساتھ 73,734 پر کھلا۔ اس کے بعد اچانک بازار میں زبردست گراوٹ شروع ہو گئی اور بی ایس ای سینسیکس 750 پوائنٹس سے زیادہ گر کر 73,138 کی سطح پر پہنچ گیا۔ اگلے ہی لمحے گراوٹ کی رفتار مزید تیز ہو گئی، جس کے نتیجے میں 30 شیئر والا یہ انڈیکس 850 پوائنٹس سے زیادہ ٹوٹ کر 73 ہزار کی سطح سے نیچے آ گیا اور 72,981 پر کاروبار کرتا نظر آیا۔

سینسیکس کی طرح این ایس ای نفٹی کا بھی یہی حال رہا۔ 50 شیئر والا یہ انڈیکس گزشتہ کاروباری دن کے 23,140 کے بند ہونے کے مقابلے میں گراوٹ کے ساتھ 23,065 پر کھلا اور پھر ایک ہی جھٹکے میں 23 ہزار کی سطح سے نیچے پھسل گیا۔ خبر لکھے جانے تک نفٹی 280 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 22,855 کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔

شیئر بازار میں گراوٹ کے درمیان تقریباً تمام زمروں میں زبردست اتھل پتھل نظر آئی۔ بڑی کمپنیوں کے شیئر تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ بی ایس ای کے لارج کیپ زمرے پر نظر ڈالیں تو اس میں شامل تمام 30 شیئرز سرخ نشان میں کاروبار کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ گراوٹ ایچ ڈی ایف سی بینک کے شیئر میں 1.90 فیصد، کوٹک بینک میں 1.80 فیصد، ایس بی آئی میں 1.60 فیصد، ایچ یو ایل میں 1.58 فیصد، ٹرینٹ میں 1.56 فیصد، بجاج فائنانس میں 1.40 فیصد، ریلائنس میں 1.35 فیصد اور آئی سی آئی سی آئی بینک میں 1.34 فیصد درج کی گئی۔ بینکنگ شیئر میں بھی زبردست گراوٹ دیکھی گئی اور بی ایس ای بینک ایکس 1.60 فیصد کی کمی کے ساتھ کاروبار کرتا نظر آیا۔ اس کے علاوہ آئی ٹی کمپنیوں کے حصص میں بھی گراوٹ درج کی گئی اور آئی ٹی انڈیکس 1.10 فیصد نیچے آ گیا۔

پیر کو شیئر بازار میں اچانک آنے والی اس زبردست گراوٹ کی وجوہات کی بات کریں تو اس کا براہ راست تعلق امریکہ سے جڑا ہوا ہے۔ دراصل امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے سے متعلق ایران کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ اس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے۔ خبر لکھے جانے تک برینٹ خام تیل کی قیمت 2 فیصد کے اضافہ کے ساتھ 106 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے کاروبار کر رہی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔