
راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے خواتین کی حمایت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’خواتین کے خلاف ہوئے جرائم کی سزا انہیں دینا بند کریں۔ پورے ملک میں خواتین سڑکوں پر چلنے سے خوفزدہ ہیں، انہیں ہراساں کیے جانے اور عصمت دری کا خوف ہے۔ اور حکومت کا جواب ہے، گھر میں رہیں۔ یہی پدرشاہی نظام کا عملی مظاہرہ ہے، ایسا نظام جو متاثرہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور مجرم کو تحفظ دیتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس نظام کو ختم کیا جائے۔‘‘
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں راہل گاندھی مزید لکھتے ہیں کہ ’’حل یہ نہیں ہے کہ خواتین کو گھروں میں قید کر دیا جائے۔ حل یہ ہے کہ ہماری سڑکوں کو محفوظ بنایا جائے، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے مردوں کی ذہنیت کا سامنا کیا جائے اور ان پر حملہ کرنے والوں کو فوری طور پر اور بغیر کسی رعایت کے سزا دی جائے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ ہزاروں طلبہ اور نوجوان خواتین کی حفاظت کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر ہیں۔ میں مزید نوجوان خواتین، خاص طور پر پورے ہندوستان میں جین زی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بڑی تعداد میں باہر نکلیں۔ یہ حکومت آپ کے درد سے بے حس ہے اور تب ہی سنے گی جب اس پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ پرامن احتجاج آپ کا جمہوری حق ہے اور میں پوری طرح آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ دہلی یونیورسٹی میں ’آستھا کنج‘ معاملے کو لے کر احتجاج بڑھتا جا رہا ہے۔ لیڈی شری رام کالج، مرانڈا ہاؤس، گارگی کالج اور بی آر امبیڈکر یونیورسٹی جیسے اداروں کے طلبہ ان احتجاجی مظاہروں میں شامل ہوئے ہیں۔ وہ ہراسانی، سڑکوں پر خراب روشنی اور سیکورٹی کے خدشات کے پیش نظر خواتین پر عائد پابندیوں کو لے کر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی پہنچ گیا ہے۔ پیر کے روز عدالت نے قومی راجدھانی میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف حالیہ جرائم کو لے کر دہلی حکومت اور پولیس سے سوالات کیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔