قومی خبریں

ووٹ ڈالنے اور انتخاب لڑنے کا حق بنیادی نہیں، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا

عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ووٹ دینے اور انتخاب لڑنے کے حق کو یکساں مان کر غلطی کی۔ عدالت کے مطابق متعلقہ ضمنی قوانین صرف انتخاب لڑنے کی اہلیت طے کرتے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے کے حق کو متاثر نہیں کرتے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

سپریم کورٹ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ نہ تو ووٹ دینے کا اور نہ ہی انتخاب لڑنے کا حق ’بنیادی حق‘ ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ یہ دونوں حقوق الگ الگ ہیں اور مکمل طور سے قانون کے تحت چلتے ہیں، نہ کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے طور پر۔ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس مہادیون کی بنچ نے راجستھان کی ضلعی دودھ یونینوں کے انتخاب سے متعلق ایک تنازعہ کی سماعت کے دوران یہ تبصرہ کیا۔ یہ فیصلہ جسٹس مہادیون نے لکھا۔

Published: undefined

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ووٹ دینے کا حق کسی فرد کو انتخاب کے عمل میں حصہ لینا کا موقع دیتا ہے، جبکہ انتخاب لڑنے کا حق ایک الگ اور اضافی اور حق ہے، جس پر اہلیت، نااہلی اور دیگر ادارہ جاتی شرائط نافذ کی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے جیوتی بسو بمقابلہ دیوی گھوشال (1982) اور جاوید بمقابلہ ہریانہ ریاست (2003) جیسے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حق صرف قانون کے ذریعہ دیے گئے ہیں اور انہیں اسی حد تک نافذ کیا جا سکتا ہے جس کی قانون اجازت دیتا ہے۔

Published: undefined

سپریم کورٹ نے کہا کہ راجستھان ہائی کورٹ نے ووٹ دینے اور انتخاب لڑنے کے حق کو یکساں مان کر غلطی کی۔ عدالت کے مطابق متعلقہ ضمنی قوانین صرف انتخاب لڑنے کی اہلیت طے کرتے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے کے حق کو متاثر نہیں کرتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ان ضمنی قوانین کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کون شخص انتخاب لڑ سکتا ہے یا عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے۔ انہیں نااہلی سے جوڑنا غلط ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے تمام متاثرہ فریق کو سنے بغیر ایک وسیع فیصلہ دے دیا، جو کہ فطری انصاف کے اصول ’تمام فریق کو سننے کے حق‘ کی خلاف ورزی ہے۔

Published: undefined

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ کوآپریٹو ادارے اپنے ضمنی قوانین کے ذریعہ انتخابی عمل اور نمائندگی کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ انتخابی حقوق کی قانونی نوعیت اور ان کے دائرے کو واضح کرنے والا اہم فیصلہ مانا جا رہا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined