قومی خبریں

’دہلی ریس کلب‘ کو خالی کرانے کا راستہ صاف، ہائی کورٹ سے مرکزی حکومت کو ملی راحت

لوٹینس دہلی کے کمال اتاترک مارگ پر واقع ’دہلی ریس کلب‘ کی زمین تقریباً 53 ایکڑ میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ پورا علاقہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور کئی دوسرے اہم سرکاری اداروں کے انتہائی قریب ہے۔

دہلی ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
دہلی ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس 

دہلی ریس کلب اور پولو کلب کو خالی کرانے کے معاملے میں مرکزی حکومت کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے سنگل جج کی بنچ کے پرانے فیصلے کو پوری طرح پلٹ دیا ہے۔ سنگل جج نے پہلے ریس کلب کو بے دخلی کی کارروائی کے خلاف عبوری ضمانت دے رکھی تھی۔ اب چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کاریا کی کی ڈویژن بنچ نے اس روک کو مکمل طور سے ہٹا دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس حکم کے بعد اب حکومت اس بیش قیمتی زمین کو خالی کرانے کے قانونی عمل کو تیزی سے آگے بڑھا سکے گی۔

Published: undefined

لوٹینس دہلی کے کمال اتاترک مارگ پر واقع یہ زمین تقریباً 53 ایکڑ میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ پورا علاقہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ اور کئی دوسرے اہم سرکاری اداروں کے انتہائی قریب ہے۔ اس سرکاری زمین کے مالکانہ حق اور قبضے کو لے کر مرکزی حکومت اور دہلی ریس کلب کے درمیان طویل عرصے سے ایک بڑا قانونی تنازعہ چل رہا ہے۔ مرکزی حکومت نے عدالت میں کہا کہ ریس کلب کی لیز 31 دسمبر 1994 کو ہی ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد حکومت نے اس لیز کو کبھی دوبارہ رینیو نہیں کیا۔ ایسے میں کلب اب اس حساس سرکاری زمین پر پوری طرح سے غیر قانونی قبضے میں ہے۔

Published: undefined

اس تنازعہ کو لے کر مرکزی حکومت نے ’پبلک پریمائسز ایکٹ‘ کے تحت اپنی قانونی کارروائی شروع کی تھی۔ گزشتہ ماہ 17 اپریل کو اسٹیٹ آفیسر نے ریس کلب کو ایک سرکاری نوٹس بھیجا تھا۔ اس نوٹس میں کلب سے پوچھا گیا تھا کہ اس کے خلاف زمین سے بے دخلی کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے؟ لیکن ریس کلب نے اس شروعاتی نوٹس کو ہی براہ راست دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سنگل جج نے گزشتہ ماہ 24 اپریل کو کلب کو عبوری راحت دے دی اور اسٹیٹ آفیسر کی آگے کی پوری کارروائی پر روک لگا دی تھی۔

Published: undefined

سنگل جج کے اس فیصلے کے خلاف مرکزی حکومت فوری طور پر ڈویژن بنچ کے پاس پہنچی۔ حکومت کی طرف سے عدالت میں دلیل دی گئی کہ یہ معاملہ ابھی صرف ایک شروعاتی نوٹس کے مرحلے میں ہے۔ حکومت نے اب تک کلب کو بے دخل کرنے کا کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا ہے، اس لیے براہ راست ہائی کورٹ آنا قانونی طور پر بالکل غلط ہے۔ حکومت نے عدالت کو سمجھایا کہ قانون میں اس پورے عمل کا ایک قانون موجود ہے۔ قانون کے مطابق سب سے پہلے اسٹیٹ آفیسر فریقین کی سماعت کرے گا۔ اس کے بعد بھی اگر کسی فریق کو شکایت یا دقت ہوتی ہے تو بعد میں قانون کی دفعہ 9 (سیکشن 9) کے تحت اپنی اپیل داخل کر سکتا ہے۔

Published: undefined

مرکزی حکومت نے عدالت میں دلیل دی کہ یہ طے کرنا کہ لیز اب بھی جاری ہے یا نہیں، کلب کا قبضہ قانونی ہے یا غیرقانونی اور پرانی ادائیگیوں کا اس پر کیا اثر ہے، یہ تمام قانونی پہلو سب سے پہلے اسٹیٹ آفیسر کو ہی دیکھنے چاہئیں۔ صرف یہ دعویٰ کر دینے سے کہ ہماری لیز اب بھی جاری ہے، ریس کلب اسٹیٹ آفیسر کے قانونی اختیارات کو ختم نہیں کر سکتا اور نہ ہی ابتدائی مرحلے پر اس نوٹس کو منسوخ کرانے کا مطابلہ کر سکتا ہے۔

Published: undefined

سرکاری دستاویزات کے مطابق اس زمین کی بنیادی لیز 1926 میں صرف 25 سال کے لیے دی گئی تھی، جسے کچھ شرائط کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا سکتا تھا۔ اس کی آخری توسیع بھی 31 دسمبر 1994 کو پوری طرح ختم ہو گئی تھی۔ دوسری جانب ریس کلب کا اب بھی یہی دعویٰ ہے کہ اس کے لیز کے حقوق قانونی طور سے جاری ہیں، اس لیے ان پر ’پبلک پریمائسز ایکٹ‘ کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined