قومی خبریں

سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا راستہ ہموار، اسپیکٹرم ایلوکیشن کو ملی منظوری!

گزشتہ سال ٹرائی نے سیٹلائٹ اسپیکٹرم الاٹمنٹ سے متعلق اپنی سفارشات پیش کی تھیں، جنھیں اب سکرٹریز کے گروپ کی منظوری مل گئی ہے۔ اس کے تحت کمپنیوں کو 5 سال کے لیے اسپیکٹرم ایلوکیٹ کیا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس، تصویر سوشل میڈیا

 

اسٹارلنک، وَن ویب اور ریلائنس جیو جیسی کمپنیوں کے سیٹلائٹ براڈبینڈ سروسز دینے کا راستہ اب صاف ہو گیا ہے۔ ذرائع کے حوالہ سے جو خبریں میڈیا میں آ رہی ہیں، اس کے مطابق سکریٹریز کے گروپ نے سیٹلائٹ اسپیکٹرم ایلوکیشن سے متعلق ٹرائی کی سفارشات کو منظوری دے دی ہے۔ اس معاملہ پر گزشتہ ہفتہ ڈیجیٹل کمیونکیشن کمیشن کی میٹنگ بھی ہوئی تھی۔ حالانکہ حکومت کو اب اس تجویز پر کابینہ کی حتمی منظوری لینی ہوگی۔ یعنی اب سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لیے بہت زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال ٹرائی (ٹی آر اے آئی) نے سیٹلائٹ اسپیکٹر ایلوکیشن سے متعلق اپنی سفارشات پیش کی تھیں، جنھیں اب سکریٹریز کے گروپ کی منظوری مل گئی ہے۔ اس کے تحت کمپنیوں کو 5 سال کے لیے اسپیکٹرم ایلوکیٹ کیا جائے گا۔ اس کے بدلے کمپنیوں کو اپنے اے جی آر کا 5 فیصد اسپیکٹرم استعمال کرنے کی فیس یعنی ’ایس یو سی‘ ادا کرنی ہوگی۔ یہ بھی جانکاری سامنے آئی ہے کہ دیہی علاقوں میں سیٹلائٹ براڈبینڈ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایس یو سی کم رکھا جائے گا۔ حالانکہ اس پورے عمل کو نافذ کرنے سے قبل حکومت کو کابینہ کی منظوری بھی لینی پڑے گی۔

سیٹلائٹ براڈبینڈ سروسز کے لیے اسپیکٹرم ایلوکیشن کی منظوری ملنے سے اسٹارلنک، وَن ویب اور ریلائنس جیو جیسی کمپنیوں کو اپنی سروسز شروع کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ ان کمپنیوں کو حکومت کے طے کردہ نظام کے تحت اسپیکٹرم دیا جائے گا۔ ’اسپیکٹرم یوزیز چارج‘ یعنی ایس یو سی ’اے جی آر‘ کا 5 فیصد شہری علاقوں کے لیے مقرر کیا جا چکا ہے، جبکہ دیہی علاقوں کے لیے ایس یو سی کتنا ہوگا، فی الحال یہ طے نہیں پایا ہے۔ کابینہ کی منظوری ملنے کے بعد ہی اب اس معاملے میں کوئی پیش رفت ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔