
وزیر اعلیٰ راجستھان بھجن لال شرما / تصویر آئی ا این ایس
پنچایت اور بلدیاتی انتخابات کے لیے ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے سے قبل راجستھان کی بھجن لال شرما حکومت نے کابینہ کی میٹنگ میں کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ کابینہ نے ’یونیفارم سول کوڈ‘ (یو سی سی) اور ’ٹری راجستھان پروٹیکشن ایکٹ‘ کو منظوری دے دی ہے۔ دونوں بل 20 اگست سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔ یعنی اب راجستھان میں بھی ’یو سی سی‘ کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یو سی سی میں شادی، طلاق، وراثت، نان و نفقہ اور لیو اِن ریلیشن شپ سے متعلق قوانین طے کیے گئے ہیں۔ نئے قوانین کے مطابق جہاں ایک طرف لیو اِن ریلیشن شپ شروع کرنے اور ختم کرنے کی اطلاع دینا ضروری ہوگا، وہیں شادی کا رجسٹریشن 60 دن کے اندر کرانا لازمی ہوگا۔ شادی یا طلاق کا رجسٹریشن نہ کرانے پر 10 ہزار روپے جرمانے کی شق رکھی گئی ہے۔
یو سی سی میں کثیر ازدواج پر پابندی عائد کرنے کی شق بھی موجود ہے، جبکہ دوبارہ شادی کی اجازت ہوگی۔ وراثت کے معاملے میں بیٹے اور بیٹی کو مساوی حقوق دینے کی شق رکھی گئی ہے۔ پوتے کو بھی جائیداد میں حق ملے گا۔ تاہم، قبائلی اور آدیواسی علاقوں کے روایتی رسم و رواج اور نظام کو یو سی سی سے باہر رکھا گیا ہے۔
بھجن لال شرما کابینہ نے سرکاری ملازمین اور افسران کو ترقی میں راحت دینے کے لیے لازمی سروس میں 2 سال کی چھوٹ کو بھی منظوری دے دی ہے۔ بجٹ میں اس کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا تھا، لیکن کابینہ کی منظوری نہ ملنے کی وجہ سے نوٹیفکیشن جاری نہیں ہو پا رہا تھا۔ اب 3 سال میں اس چھوٹ کا فائدہ نہ لینے والے ملازمین بھی اس کے دائرے میں آ سکیں گے۔
ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بھی حکومت نے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ’ٹری راجستھان پروٹیکشن ایکٹ‘ کے تحت کھیجڑی اور روہیڑا سمیت 29 اقسام کے درختوں کی کٹائی پر پابندی ہوگی۔ خصوصی حالات میں مجاز افسر کی اجازت ضروری ہوگی۔ بغیر اجازت درخت کاٹنے پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور ایک سال تک قید کی سزا کی شق رکھی گئی ہے۔ یہ قانون ذاتی زمین پر بھی نافذ ہوگا۔
درخت کاٹنا ضروری ہونے کی صورت میں اجازت کے ساتھ نئے درخت لگانے اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی طے ہوگی۔ کاٹے گئے درختوں کی جگہ 10 فیصد زیادہ درخت لگانے ہوں گے۔ اس کے علاوہ آزادی سے لے کر 31 اکتوبر 1972 تک شہید ہونے والے فوجیوں کے 35 خاندانوں، جنہیں اب تک انحصاری بنیاد پر تقرری نہیں ملی ہے، انہیں تقرری دینے کی شق کو بھی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔
ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے سے پہلے لیے گئے ان فیصلوں کو بی جے پی حکومت کے لیے انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اب یو سی سی اور ٹری راجستھان پروٹیکشن ایکٹ سمیت دیگر تجاویز اسمبلی میں پیش کی جائیں گی، جہاں ان پر آگے کی کارروائی ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔