
من کی بات / ویڈیو گریب
ہندوستان کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافے کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ وزیر اعظم مودی نے اتوار کو ’من کی بات‘ کے 134 ویں ایپی سوڈ میں کہا کہ اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں بہت گرمی پڑ رہی ہے۔ تیز دھوپ اور گرم ہواؤں کے ساتھ ایسے موسم میں اپنا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ پانی پیتے رہیں۔ اگر دھوپ میں نکلنا پڑے تو احتیاط کے ساتھ نکلیں۔ حکومت کی طرف سے جاری کردہ مختلف محکموں کی ہدایات کو نہ بھولیں۔
Published: undefined
اپنے خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گرمی سے لڑنے کا طریقہ اکثر کچن میں بھی ملتا ہے۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ جیسے جیسے گرمی بڑھتی ہے، ویسے ویسے گھر میں رسوئی کا ذائقہ اور قسم بدل جاتی ہے۔ کہیں مٹکے کا پانی نکل آتا ہے، کہیں دہی جمنے لگتا ہے تو کہیں آم ابلنے لگتے ہیں اور پھر دیسی مشروبات کا موسم شروع ہوجاتا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کے روایتی موسم گرما کے مشروبات کی جڑیں ملک کے مختلف خطوں کے رسم و رواج اور ثقافتوں میں گہری ہیں۔ ہر پینے کی چیز ایک منفرد کہانی بیان کرتی ہے، جو مل کر ہندوستان کے متحرک تنوع کو ظاہر کرتی ہیں اور’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘ کے جذبے کو تقویت دیتی ہیں۔
Published: undefined
کچھ ریاستوں کی مثالیں دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ آپ دیسی مشروبات سے بھی واقف ہیں، اگر آپ شمالی ہندوستان جائیں تو آپ کو بہت سی جگہوں پر آم پنا ملے گا، جو کچے آموں کا ذائقہ پیش کرتے ہیں اور گرمی سے راحت دیتے ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ جایئے تو بڑے گلاس والی لسی مل جائے گی۔ راجستھان اور گجرات میں، چھاچھ جیسے ہر کھانے کی ساتھی بن جاتی ہے۔بہار، جھارکھنڈ اور مشرقی اتر پردیش میں ستو کا شربت ہے، ام مب پیٹ بھی بھرتا ہے اور طاقت بھی ملتی ہے۔
Published: undefined
اس دوران وزیر اعظم مودی نے کونکن اور گوا سے کوکم شربت، جنوبی ہندوستان کے پا نکم ، سمبارم اور اڈیشہ کے بیل پنا کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف مشروبات نہیں ہیں بلکہ ہندوستان کے مختلف خطوں کی روایات کا حصہ ہیں۔ ہم وطنوں کے نام اپنے پیغام میں وزیرا اعظم مودی نے ان پر زور دیا کہ وہ گرمیوں میں ہندوستانی مشروبات سے لطف اندوز ہوں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined