قومی خبریں

800 تاریخوں کے بعد آئے عدالتی فیصلے پر مکمل طور پر خاموش ہے میرٹھ کا ملیانہ

1987 میں میرٹھ کے مشہور ملیانہ اجتماعی قتل کیس میں عدالت نے تمام ملزمان کو بری کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد متاثرین مایوس ہیں اور وہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر آس محمد</p></div>

تصویر آس محمد

 

"سچ تو یہ ہے کہ ہاشم پورہ اور ملیانہ کا خون میرٹھ کے سینے پر ہمیشہ ایک داغ بنا رہے گا، عدالتیں تو گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلے دیتی ہیں، ہاشم پورہ کے ملزمین کو عمر قید اور اب ملیانہ کے ملزمین کو بری کرنے جیسے فیصلوں پر مختلف طریقوں سے بحث ہوتی رہے گی۔ ہفتہ کو میرٹھ کے ملیانہ معاملے میں آئے عدالتی فیصلے کے بعد ملیانہ مکمل طور پر خاموش ہے۔ ماہ رمضان میں آئے اس فیصلے میں 420 ماہ اور 800 تاریخوں کا سفر طے کیا گیا ہے۔ 23 سال پہلے بھی وہ رمضان کا مہینہ تھا۔ جب 23 مئی کو پی اے سی کے جوانوں نے ملیانہ میں 63 لوگوں کے گھروں میں گھس کر انہیں مار ڈالا۔ ہاشم پورہ میں، 22 مئی کو پی اے سی نے 42 لوگوں کو پی اے سی اپنے ٹرکوں میں بھر کر لے گئی تھی۔ جب یہ بات یہاں معلوم ہوئی تو لوگ خوفزدہ ہوگئے تھے۔

ملیانہ کے سلیم احمد کا کہنا ہے کہ میرٹھ 1987 میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جل رہا تھا۔ یہاں 14 اپریل یعنی شب برات کے دن ایک فساد ہوا، جس میں 12 افراد مارے گئے۔ اس کے بعد کرفیو لگا کر حالات کو قابو میں کر لیا گیا لیکن کشیدگی برقرار رہی اور شہر میں دو تین ماہ تک وقفے وقفے سے فسادات ہوتے رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ 23 ​​مئی 1987 کو تقریباً 2.30 بجے پی اے سی کی 44ویں بٹالین اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ ملیانہ آئی اور ڈھائی گھنٹے تک فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ اس کے بعد وہاں صرف لاشیں ہی لاشیں پھیلی ہوئی تھیں۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ملیانہ میں 12 افراد ہلاک ہوئے لیکن اگلے ماہ ڈی ایم نے یہ تعداد بڑھا دی۔ نعیم راجپوت کہتے ہیں کہ کم و بیش تعداد بتا کر کیا ہو رہا تھا! کیونکہ ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اب عدالت کے فیصلے پر کیا ہی کہا جائے! مقامی لوگوں کے مطابق انہیں مرنے والوں کی تعداد 73 بتائی گئی تھی حالانکہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔

عدالت میں اس معاملے کی وکالت کرنے والے یعقوب علی اب کہہ رہے ہیں کہ وہ عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ آگے اپیل دائر کریں گے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جلد ہی کمیٹی میں شامل لوگوں سے بات کرکے ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ یعقوب علی کا کہنا ہے کہ اس فساد میں اس نے اپنا بھانجہ کھویا ہے۔ 35 سال عدالتوں کے چکر کاٹنے کے بعد اب یہ فیصلہ آیا اور اس میں بھی انصاف نہیں ملا ہے، آخر ان لوگوں کو کس نے مارا!

ملیانہ کے افتخار (48) نے بتایا کہ اس کے والد گلزار کا قتل کیا گیا تھا۔ آج 35 سال بعد عدالتی فیصلہ کی وجہ سے سارے زخم تازہ ہو گئے ہیں، وہ اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں۔ وہ جلد ہی ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے، ایک اور متاثرہ مہتاب (40) کا کہنا ہے کہ میرے والد اشرف کو فسادات کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس وقت میں بہت چھوٹا تھا اور میرے سامنے میرے والد کی لاش پڑی تھی۔ جبکہ ان کا فسادات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ارشاد سیفی نے بتایا کہ ہنگامے کے دوران ان کے چچا یاسین باہر سے گھر واپس آرہے تھے۔ راستے میں فسادیوں نے انہیں گولی مار کر شوگر مل کے قریب پھینک دیا۔ ارشاد اور مہتاب دونوں ہائی کورٹ جانے کی بات کر رہے ہیں۔

بتا دیں کہ میرٹھ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج لکھویندر سود نے ٹی پی نگر تھانے کے تحت ملیانہ ہولی چوک میں 1987 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے 39 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ 23 مئی 1987 کو ملیانہ ہولی چوک پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے جس میں مدعی یعقوب علی ولد نذیر نے 93 افراد کے خلاف نامزد مقدمہ درج کرایا تھا۔ اس واقعے میں تقریباً 73 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹ میں مدعی نے لکھویا تھا کہ آگ لگاتے ہوئے سبھی لوگ اکٹھا ہو گئے اور قتل کی نیت سے انہوں نے حملہ کر دیا۔ انہوں نے اقلیتی برادری کو نشانہ بنایا اور ان پر فائرنگ کی گئی۔ جس میں 63 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اس معاملے میں تقریباً 40 لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور تقریباً 39 لوگوں پر مقدمہ چل رہا ہے۔ جبکہ باقی کے لوگوں کے ٹھکانے معلوم نہیں ہیں۔ اس کیس میں مدعی سمیت 10 گواہوں نے عدالت میں اپنے بیانات دیئے۔ لیکن استغاثہ ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے گواہوں کے بیانات اور فائل پر موجود شواہد کو دیکھنے کے بعد 39 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایک طرف وہ لوگ جو 35 سال بعد قتل کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں۔ انہوں نے سکون کا سانس لیا ہے، جبکہ جن لوگوں کی لاشیں گھروں سے اٹھیں، ان کے اہل خانہ کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھ رہا کہ اتنے بڑے قتل عام کو انجام دینے والے کون تھے؟ میرٹھ کے قاری شفیع الدین کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ قتل عام کس نے انجام دیا اور 73 لوگوں کی جانیں کیسے گئیں! ان کے جسم سے کس کی گولی ملی؟ کیا اب ملیانہ کو انصاف ملے گا؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔