
اکھلیش یادو / آئی اے این ایس
سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے حکومت پر بدعنوانی، بدحال بنیادی سہولیات اور تعلیمی نظام کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’اتر پردیش میں ترقی کے بجائے بدامنی اور گھوٹالوں کا ماحول ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ سڑک، تعلیم، روزگار اور سرمایہ کاری جیسے مسائل 2027 کے اسمبلی انتخاب میں اہم موضوعات بنیں گے اور عوام ان سوالوں پر حکومت سے جواب مانگے گی۔
Published: undefined
اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بدھ کو کہا کہ حکومت نے ریاست کو ترقی کے بجائے بدنامی دی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے مختلف محکموں میں بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ عروج پر ہے، جس سے ریاست کی شبیہ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے آگرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر سے آنے والے سیاح تاریخی ورثے کو دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں، لیکن خراب سڑکیں اور بنیادی سہولیات کی صورتحال ریاست کے انتظامات پر سوال اٹھاتی ہے۔
Published: undefined
اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ سیاحت، ہوٹل، گائیڈ، ٹیکسی، ٹور آپریٹر، دستکاری، پیٹھا اور جوتوں کی صنعت جیسے شعبوں پر معاشی سستی کا اثر نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ناقص انفراسٹرکچر اور انتظامی نظام بھی سرمایہ کاری کے ماحول کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے تعلیم کے مسائل کو بھی نمایاں طور پر اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی تعلیمی ادارے سے متعلق تعمیراتی یا انتظامی سطح پر کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی جوابدہی متعلقہ افسران اور محکموں کی بھی طے ہونی چاہیے۔ صرف اساتذہ یا اداروں کے خلاف کارروائی کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔
Published: undefined
سابق وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ حکومت تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کے مفادات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ سرکاری اسکولوں، بھرتی امتحانات، پیپر لیک، تشخیصی عمل اور مسابقتی امتحانات میں بے ضابطگیوں جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نظام تعلیم سے جڑے سوالات آنے والے انتخابی مباحثے کے مرکز میں رہیں گے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور بدعنوانی سے جڑے مسائل پر بڑے پیمانے پر عوامی بحث ہو رہی ہے اور آنے والے وقت میں عوام انہی مسائل کی بنیاد پر سیاسی فیصلہ کرے گی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined