
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف
پاکستان میں میڈیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستانی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے نیوز چینلز میں شامل ’جیو نیوز‘ کا ٹی وی لائسنس اور نشریات کو 15 دن کے لیے معطل کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ چینل کے ایک پروگرام میں ایسے مناظر دکھائے گئے جو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ اس معاملے میں مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستانی حکومت کے تحت کام کرنے والی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نصف شب میں ’جیو نیوز‘ کے ٹی وی لائسنس اور نشریات کو 15 دن کے لیے معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔
Published: undefined
پیمرا کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 26 جون (جمعہ) کو 10 محرم الحرام کے موقع پر ’جیو نیوز‘ کی جانب سے نشر کیے جانے والے خصوصی پروگرام ’’سفر عشق‘‘ میں مذہبی مناظر/خاکہ کو نشر کیا گیا جو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے تھے۔ پیمرا کے آپریشنز ڈائریکٹر عمیر عظیم کا کہنا ہے کہ یہ متنازعہ نشریات قوانین کے خلاف اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی تھیں اس لیے ’جیو نیوز‘ کے خلاف اس طرح کی سخت کارروائی کی گئی ہے۔
Published: undefined
پیمرا نے مزید قانونی کارروائی کے لیے معاملہ ریگولیٹری کونسل کو بھج دیا ہے۔ تحقیقات کے بعد پاکستانی قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔ ریگولیٹری اتھارٹی نے ’جیو نیوز‘ کو پورے معاملے کی داخلی تحقیقات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ چینل سے کہا گیا ہے کہ وہ پروگرام کی نشریات اور اس سے متعلق حقائق کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے۔
Published: undefined
پیمرا کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق ’جیو نیوز‘ کو معطلی کی مدت کے دوران سیٹلائٹ سمیت تمام ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس اور پلیٹ فارمز پر نشریات مکمل طور پر بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ادارتی اور مانیٹرنگ لیپس کی تحقیقات کے لیے اندرونی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دکر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ احتشام ظہیر کی شکایت کے بعد کی گئی۔ احتشام ظہیر کو دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کا دیرینہ ساتھی بھی بتایا جاتا ہے۔ شکایت ملنے کے بعد پاکستانی حکومت نے ’جیو نیوز‘ کے خلاف یہ کارروائی کی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر آئی اے این ایس (فائل)