قومی خبریں

ہریانہ کے نوح سے پھیلی آگ راجستھان پہنچی، بھیواڑی میں گوشت کی دکانوں میں توڑ پھوڑ، کئی مشتبہ افراد حراست میں

پولیس کو دیکھتے ہوئے شر پسند عناصر جنیسس شاپنگ مال کے اندر گھس گئے، پولیس نے فوراً مال کو چاروں طرف سے گھیر لیا، فی الحال پولیس نے نصف درجن مشتبہ نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے۔

تشدد، علامتی تصویر
تشدد، علامتی تصویر 

ہریانہ کے نوح میں ہندوتوا تنظیموں کے ذریعہ نکالی گئی یاترا کے دوران جو زبردست فرقہ وارانہ تصادم 31 جولائی کو دکھائی دیا تھا، اس کی آگ اب قریبی ریاست راجستھان میں پہنچ گئی ہے۔ نوح کے بعد ہریانہ کے گروگرام میں 31 جولائی کی دیر شب ایک مسجد کو آگ کے حوالے کر دیا گیا تھا، اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق راجستھان کے بھیواڑی میں گوشت کی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

Published: undefined

ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 ہندی ڈاٹ کام‘ پر ایک شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھیواڑی میں گوشت کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ اس معاملے میں نصف درجن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھیواڑی میں منگل کے روز الور بائپاس واقع گوشت کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ اس دوران دکانوں میں بیٹھے لوگ کسی طرح سے اپنی جان بچا کر بھاگے۔ شورش پسندوں نے نہ صرف دکانوں میں توڑ پھوڑ کی، بلکہ اس میں رکھے سارے سامان کو بھی تہس نہس کر دیا۔

Published: undefined

خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ گوشت کی دکانوں کے سامنے ٹین شیڈ لگے ہوئے تھے جنھیں توڑ کر نیچے گرا دیا گیا۔ جیسے ہی پولیس کو شورش پسندوں کے ہنگامہ کی جانکاری ملی، پولیس فورس موقع پر پہنچا۔ پولیس کو دیکھتے ہوئے شر پسند عناصر قریب میں موجود جنیسس شاپنگ مال کے اندر گھس گئے۔ پولیس نے فوراً مال کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ فی الحال پولیس نے نصف درجن مشتبہ نوجوانوں کو حراست میں لیا ہے اور مال میں تلاشی مہم جاری ہے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی جائے حادثہ پر موجود ہیں۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ نوح میں پہلے ہی حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی گئی۔ نوح میں ہوئے تشدد کے دوران 2 ہوم گارڈ سمیت 5 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ درجن بھر پولیس اہلکار اس واقعہ میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ نوح کی آگ اس سے ملحقہ علاقوں تک تیزی سے پھیل رہی ہے۔ نوح سے ہی ملحق سوہنا سے بھی تشدد کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined