
انکیتا بھنڈاری کے والدین کے ساتھ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی
دہلی میں انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کے مطالبے کو لے کر انڈیا گیٹ پر دھرنا دے رہے ان کے والدین کو پولیس نے صبح تقریباً 4 بجے حراست میں لے لیا تھا۔ حالانکہ ایک گھنٹے بعد صبح تقریباً 5 بجے انہیں رہا کر دیا ہے۔ اس واقعہ پر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’صبح کے 4 بجے جب دنیا سو رہی تھی تب انکیتا بھنڈاری کے والدین کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان کا گناہ؟ وہ انڈیا گیٹ پر خاموش بیٹھے تھے، بوجھل کندھوں کے ساتھ بغیر کسے ہنگامے کے، اور صرف اتنا مطالبہ کر رہے تھے کہ سی بی آئی کی تحقیقات مکمل ہونے تک دشینت گوتم کو سکم کا گورنر نہ بنایا جائے۔‘‘
راہل گاندھی نے بدھ کی رات میں انکیتا بھنڈاری کے والدین سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے پوسٹ میں لکھا کہ ’’کل میں اور پرینکا ان سے ملے تھے۔ جس تحقیقات کا نتیجہ آیا نہیں، اس کے پہلے ہی تقرری کی جلدی اور سوال پوچھنے والے ماں باپ کو رات کے اندھیرے میں اٹھا لیا گیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اس حکومت کی پہچان یہی ہے، متاثرین کی آواز دبا دو، سوال کرنے والوں کو ہٹا دو۔ لیکن انصاف کی لڑائی نہ دبے گی، نہ رکے گی۔ کانگریس انکیتا بھنڈاری کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی جب تک انہیں انصاف نہیں ملتا۔‘‘
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینو گوپال نے بھی انکیتا بھنڈاری کے والدین کے مطالبے کی حمایت کی۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’انکیتا بھنڈاری کے اہل خانہ کا مطالبہ بالکل جائز ہے، صدر جمہوریہ کو دشینت گوتم کی گورنر کے عہدے سے برطرفی کا حکم دینا چاہیے۔‘‘ کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر لکھا کہ ’’نریندر مودی نے صبح 4 بجے پولیس بھیج کر انکیتا کے والدین کو گرفتار کروا دیا۔ وی آئی پی دشینت گوتم کو بچانے کے لیے نریندر مودی نے حد پار کر دی ہے۔ پہلے اسے گورنر بنا دیا، اب جب انکیتا کے والدین انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ان کی آواز کو کچلا جا رہا ہے۔ شرمناک!
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر: کانگریس میڈیا سیل