
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / یو این آئی
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے آج انتخابی تشہیر کرنے کے مقصد سے مغربی بنگال کے کوچ بہار پہنچے۔ یہاں انھوں نے مودی حکومت اور لوک سبھا میں گرنے والے خواتین ریزرویشن سے متعلق بل پر کھل کر اپنی بات رکھی۔ انھوں نے ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’2023 میں خواتین ریزرویشن بل کو ایوان میں اتفاق رائے سے پاس کیا گیا، لیکن نریندر مودی اس بل کو 30 ماہ تک تکیے کے نیچے رکھ کر سو گئے۔ اس کے بعد جب ریاستوں میں انتخاب آیا، تب نریندر مودی کی نیند کھلی۔‘‘
Published: undefined
کانگریس صدر نے پی ایم مودی کو خواتین مخالف قرار دیا اور کہا کہ وہ صرف دکھاوے کے لیے خواتین ریزرویشن بل لوک سبھا میں لے کر آئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’حقیقت یہی ہے کہ نریندر مودی اور بی جے پی خواتین مخالف ہیں۔ ان لوگوں نے کبھی بھی خواتین کے مفاد میں کام نہیں کیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کانگریس ہمیشہ خواتین کے حقوق کے لیے لڑتی رہی ہے۔ ہم خواتین کو ریزرویشن دلوا کر رہیں گے۔‘‘
Published: undefined
وزیر اعظم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’نریندر مودی کہتے ہیں کانگریس اور اپوزیشن نے مل کر خواتین ریزرویشن بل کو گرا دیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس اور اپوزیشن پارٹیوں نے حد بندی بل کو گرایا ہے۔‘‘ کانگریس پر خواتین کے حقوق تلف کرنے سے متعلق پی ایم مودی کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’کانگریس میں شروع سے لے کر اب تک کئی خواتین پارٹی صدر سمیت دیگر بڑے عہدوں پر رہیں، لیکن بی جے پی نے آج تک کسی خاتون کو پارٹی صدر تک نہیں بنایا۔ کانگریس تو ملک کے سبھی طبقات کو ساتھ لے کر چلنے والی پارٹی ہے، جبکہ بی جے پی کا کام لوگوں کے درمیان جھگڑا لگانے کا ہے۔‘‘
Published: undefined
کانگریس صدر نے کوچ بہار میں جمع لوگوں کی زبردست بھیڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی آج ہم پر الزام عائد کر رہے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ کانگریس اور پورے اپوزیشن نے مل کر 2023 میں خواتین ریزرویشن بل پاس کروایا تھا۔ درحقیقت نریندر مودی کی نیت میں ہی کھوٹ ہے۔ وہ لوگوں کو بہکا رہے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’حکومت جو بل لائی، اس میں خواتین ریزرویشن کی بات نہیں تھی۔ یہ حد بندی بل تھا، جس سے یہ انتخابات میں اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے کانگریس اور پورے اپوزیشن نے حد بندی بل کو گرا دیا۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined