کانگریس ترجمان سپریا شرینیت، ویڈیو گریب
الیکشن کمیشن کی طرف سے گزشتہ دنوں جاری ایک خط پر کیرالہ بی جے پی کی مہر کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں اس تعلق سے ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں الیکشن کمیشن کی وضاحت سے غیر مطمئن دکھائی دے رہی ہیں۔ خاص طور سے کانگریس نے اس معاملہ کو آج سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کئی شکل میں سامنے رکھا۔ خاص طور سے کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ایک ویڈیو پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ ’الیکشن کمیشن ہی بی جے پی ہے، اور بی جے پی ہی الیکشن کمیشن ہے۔‘
Published: undefined
کانگریس نے سپریا شرینیت کے اس ویڈیو پیغام کو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کیا ہے۔ اس میں سپریا کہتی نظر آ رہی ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن ہی بی جے پی ہے، اور بی جے پی ہی الیکشن کمیشن ہے۔ اب اس تعلق سے کسی بھی طرح کا کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک خط جاری کیا گیا، جس پر بی جے پی کی مہر لگی ہوئی تھی۔ کافی ہنگامہ کے بعد الیکشن کمیشن نے غلطی تسلیم کی اور متعلقہ افسر کو معطل کر دیا۔ لیکن اس کے بعد اسی الیکشن کمیشن نے ان لوگوں کو، جنہوں نے اس خط کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا، کیرالہ پولیس کے ذریعہ نوٹس بھیجے۔‘‘
Published: undefined
اس کارروائی پر سپریا شرینیت نے سوال اٹھایا ہے۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ ’’اگر ذمہ دار شخص کے ذریعہ غلطی تسلیم کر لی گئی تھی تو پھر سب کو نوٹس جاری کرنے کا کیا مطلب ہے؟‘‘ اس معاملہ پر ان کا کہنا ہے کہ ’’یہ نوٹس جاری کیا جانا کیرالہ میں بی جے پی اور ایل ڈی ایف کے درمیان گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔‘‘ وہ مزید کئی سوالات بھی اٹھاتی ہیں، مثلاً
الیکشن کمیشن کے دفتر کے اندر بی جے پی کی مہر کیا کر رہی تھی؟
کیا اب الیکشن کمیشن بی جے پی کی طرف سے دستاویزات جاری کر رہا ہے؟
ایسی تمام نام نہاد ’غلطیاں‘ صرف بی جے پی کے حق میں ہی کیوں ہوتی ہیں؟
آج تک جب بھی ای وی ایم میں کسی چھیڑ چھاڑ یا خرابی کا پتہ چلا ہے، ووٹ ہمیشہ بی جے پی کے حق میں ہی کیوں جاتا ہے؟
ایسی ’غلطیاں‘ کبھی کانگریس یا دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے حق میں کیوں نہیں ہوتیں؟
Published: undefined
مذکورہ بالا سوالات قائم کرنے کے بعد سپریا شرینیت نے کہا کہ ’’یہ صرف ایک مہر یا اسٹامپ کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس اعتماد کا سوال ہے جس پر ہماری انتخابی جمہوریت قائم ہے۔ لیکن غلطیوں کی اصلاح کے بجائے، مسائل اٹھانے والوں کو ہی ہراساں کیا جا رہا ہے۔‘‘ اس معاملہ میں کانگریس ترجمان نے ایک طرح سے الیکشن کمیشن کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ بی جے پی اس کا استعمال اپنے فائدے کے لیے کر رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined