کانگریس لیڈر عمران مسعود، ویڈیو گریب
سہارنپور میں ضلع انتظامیہ کے دفتر کے احاطے میں بنی مسجد کو گرائے جانے کے بعد کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسجد گرانے کی کارروائی محض مذہبی مقام سے متعلق معاملہ نہیں ہے بلکہ اس میں ملک کے قانون اور آئین کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ جس زمین کو سرکاری کلکٹریٹ کی زمین بتا رہی ہے، وہ ریونیو ریکارڈ میں آج بھی وحید خان اور یعقوب خان کے نام درج ہے۔ ان کے مطابق انہی کی زمینداری کے دوران مسجد تعمیر ہوئی تھی۔ مسجد وقف بورڈ میں رجسٹرڈ تھی لیکن کارروائی سے متعلق معاملے میں وقف بورڈ کو فریق نہیں بنایا گیا۔
کانگریس لیڈر عمران مسعود نے ’وقف بائی یوزر‘ کی شق کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی زمین یا عمارت کا طویل عرصے سے مسجد کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہو تو اس سے متعلق دستاویزات اور مسلسل نماز جیسی سرگرمیاں اس کی مذہبی حیثیت ثابت کرنے میں اہم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسجد تقریباً 70 سال سے موجود تھی اور وہاں مسلسل نماز ادا کی جاتی رہی۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اگر حکومت کا دعویٰ ہے کہ مسجد سرکاری زمین پر بنی تھی تو اسے دستیاب ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر یہ ثابت کرنا چاہیے۔‘‘
خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق عمران مسعود نے کارروائی کے طریقۂ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رات میں مسجد کو بند کرایا گیا، وہاں رکھا سامان ہٹایا گیا اور اس کے بعد رات بھر میں ڈھانچہ گرا دیا گیا۔ ان کے مطابق علاقے کو گھیر لیا گیا تھا اور لوگوں کو اپنے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ انتظامیہ نے ملبہ بھی فوری طور پر ہٹا دیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’وہ مسجد نہیں گرا رہے ہیں بلکہ وہ ملک کے آئین کو گرا رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ معاملے میں ہائی کورٹ کے سامنے وقف بورڈ کو مناسب طور پر فریق نہیں بنایا گیا اور کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔
عمران مسعود نے یہ بھی کہا کہ وہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے رکن رہ چکے ہیں اور ’وقف بائی یوزر‘ کے معاملے سے واقف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس شق میں کی گئی تبدیلی کو پچھلی تاریخ سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے میں قانونی دائرے میں رہ کر لڑائی لڑے گی۔ عمران مسعود نے سہارنپور کے لوگوں سے کارروائی کے خلاف بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر احتجاج درج کرانے کی اپیل کی اور اسے ضلع کے لیے ’سیاہ دن‘ قرار دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔