
لکھنؤ: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آج ایک بار پھر امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت بابری مسجدمقدمہ کا فیصلہ حق و انصاف کے مطابق ہوگا۔ یہاں دارالعلوم ندوۃالعلماء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مختلف امور پر غور و خوض کرنے کے بعد جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے”سپریم کورٹ میں زیر سماعت بابری مسجد مقدمہ میں سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون کی قیادت میں جو دلائل و شواہد پیش کئے گئے ہیں ان کی بنیاد پر پوری توقع کی جاتی ہے کہ فیصلہ بابری مسجد کے ہی حق میں ہوگا، جو حق و صداقت کے تقاضوں پر مبنی ہوگا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس مقدمہ پر نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں اور لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ملک کی عدالت عظمیٰ دستور ہند، ملکی قوانین اور حقائق و شواہد کو پیش نظر رکھے گی۔“
Published: 12 Oct 2019, 7:00 PM IST
اجلاس کی صدارت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے کی۔میٹنگ میں بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی‘ نائب صدر فخرالدین اشرف کچھوچھوی‘ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی‘ مولانا محمود مدنی‘ ظفر یاب جیلانی‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور مولانا خالد رشید فرنگی محلی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین موجود تھے۔
Published: 12 Oct 2019, 7:00 PM IST
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”بابری مسجد کے سلسلہ میں مسلمانان ہند کا موقف وہی ہے جس کا بورڈ کی طرف سے باربار اظہار کیا گیا ہے کہ جو جگہ مسجد کے لئے وقف کردی جائے وہ ہمیشہ مسجد باقی رہتی ہے۔ اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے نہ مسلمان اس سے دست بردار ہوسکتے ہیں اور نہ اسے منتقل کرسکتے ہیں۔“ بیان میں کہا گیا ہے ”مسلمانوں کا یہ نقطہ نظر پوری طرح تاریخی حقائق اور شواہد پر مبنی ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے یا کسی مندر کی جگہ پر تعمیر نہیں کی گئی۔ بابری مسجد کے بارے میں بعض حلقوں سے مصالحت کی بات باربار آتی رہی ہے اور بورڈ نے پورے خلوص کے ساتھ مصالحت کی ایسی کاروائیوں میں شرکت بھی کی، تاکہ انصاف پر مبنی کوئی حل نکل آئے، جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ لیکن باربار کی کوششوں کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اس مسئلہ میں بظاہر مصالحت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس لئے واضح کیا جاتا ہے کہ اب جب کہ مقدمہ اپنے آخری مرحلہ میں ہے، مصالحت کا کوئی موقع باقی نہیں رہ گیا ہے۔“
Published: 12 Oct 2019, 7:00 PM IST
یکساں سول کوڈ کو ملک کے لئے ناموزوں قرار دیتے ہوئے ایک دیگر قرار داد میں بورڈ نے کہا کہ ”ہندوستان ایک کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی ملک ہے۔ یہاں رہنے والے ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنے کی دستوری آزادی ہے۔ یونیفام سول کوڈ اس ملک کے لئے ہرگز موزوں نہیں ہے۔“
Published: 12 Oct 2019, 7:00 PM IST
بورڈ نے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی حکومت کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ”یونیفام سول کوڈ لانے کی عدلیہ یا مقننہ کے ذریعہ جو بھی کوشش کی جائے گی، بورڈ اس کی پرزور مخالفت کرے گا۔“ بورڈ نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں ہے بلکہ اس سے ملک کی دیگر اقلیتیں اور قبائل بھی متأثر ہوں گے۔ بورڈ نے اس طرح کے کسی بھی قدم اٹھانے سے حکومت کو باز رہنے کا مشورہ دیا۔
Published: 12 Oct 2019, 7:00 PM IST
ایک دیگر قرار داد میں بورڈ نے کہا کہ تین طلاق سے متعلق جو قانون پارلیمنٹ سے پاس کیا گیا ہے وہ قانون شریعت میں مداخلت ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلہ اور دستور ہند کے بھی مغائر ہے، نیز اس سے عورتوں اور بچوں کا مفاد بھی متأثر ہوگا۔ لہٰذا بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس قانون کو عدلیہ میں چیلنج کرے گا اور عنقریب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کرے گا۔“
Published: 12 Oct 2019, 7:00 PM IST
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 12 Oct 2019, 7:00 PM IST
تصویر: پریس ریلیز