
ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں کم عمری میں کیے جانے والے جرائم اور اغوا کے بڑھتے ہوئے معاملات نے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق دہلی ’چلڈرن اِن کانفلکٹ وِتھ لاء‘، یعنی قانون کی خلاف ورزی میں ملوث نابالغوں کے معاملات میں ملک کے تمام میٹرو شہروں میں سرفہرست رہا۔ دہلی میں 2024 کے دوران نابالغوں کی جانب سے جرائم کے 2,306 معاملات درج کیے گئے، جو حقیقی معنوں میں فکر انگیز ہے۔
Published: undefined
این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق چنئی میں 466 اور بنگلورو میں 386 ایسے جرائم کے معاملات سامنے آئے، جنہیں نابالغوں نے انجام دیا تھا۔ ہر ایک لاکھ نابالغ آبادی پر تقریباً 42 کم عمر مجرم پائے گئے، جو قومی سطح پر سب سے زیادہ ہے۔ اس سے پہلے دہلی میں سال 2022 میں 2,336 اور 2023 میں 2,278 معاملات درج ہوئے تھے۔
Published: undefined
دہلی میں کم عمر بچوں کے ذریعہ جرائم میں سب سے زیادہ معاملات چوری کے رہے۔ مجموعی طور پر 1,027 جائیداد سے متعلق جرائم میں 526 چوری، 217 جھپٹ ماری اور 195 لوٹ کے معاملات شامل ہیں۔ نابالغوں نے نہ صرف چوری اور لوٹ جیسی وارداتوں کو انجام دیا، بلکہ 2024 میں 58 زنا اور 132 پاکسو ایکٹ کے تحت بھی معاملات درج کیے گئے۔ این سی آر بی کے مطابق ملک بھر میں کم عمری والے جرائم کے معاملات میں 11.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2024 میں ایسے 34,878 معاملات درج ہوئے، جب کہ 2023 میں یہ تعداد 31,365 تھی۔ گرفتار کیے گئے 42,633 کم عمر افراد میں سے 77.7 فیصد کی عمر 16 سے 18 سال کے درمیان تھی۔
Published: undefined
راجدھانی میں اغوا کے معاملات بھی تشویش کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ 2024 میں دہلی میں اغوا کے 5,580 معاملات درج ہوئے۔ حالانکہ یہ تعداد 2023 کے 5,715 معاملات سے کچھ کم ہے، لیکن فی ایک لاکھ آبادی پر 25.5 معاملات کے ساتھ دہلی ملک میں سب سے اوپر رہا۔ یہ قومی اوسط 6.8 سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو جانچ اور قانونی کارروائی کی سست رفتار ہے۔ اغوا کے معاملات میں دہلی پولیس کی چارج شیٹ داخل کرنے کی شرح صرف 8.5 فیصد رہی، جب کہ قومی اوسط 30.9 فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں خاندان طویل عرصہ تک غیر یقینی صورتحال اور ذہنی دباؤ میں جینے پر مجبور ہیں۔ قتل کے معاملات میں پولیس کی کارروائی نسبتاً بہتر رہی۔ 2024 میں قتل کے 504 معاملات درج کیے گئے اور ان میں 90.8 فیصد معاملات میں چارج شیٹ داخل کی گئی، جو قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بچوں اور بزرگوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ملک کے لیے ایک سنگین سماجی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined