
راہل گاندھی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی قیادت والی حکومت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، لیکن کچھ ایسے فیصلے بھی لیے ہیں جس نے اپوزیشن کو تنقید کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ چیف الیکٹورل افسر منوج اگروال کو مغربی بنگال کا چیف سکریٹری اور مغربی بنگال میں 2026 اسمبلی انتخاب کے خصوصی مبصر رہے سبرت گپتا کو وزیر اعلیٰ کا مشیر بنائے جانے پر اپوزیشن لگاتار سوال اٹھا رہا ہے۔ اب لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اس فیصلے کو بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کا ثبوت قرار دیا ہے۔
Published: undefined
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کر بی جے پی اور الیکشن کمیشن دونوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ راہل گاندھی نے ’انڈیا ٹوڈے‘ کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’بی جے پی-الیکشن کمیشن کے ’چور بازار‘ میں... جتنی بڑی چوری، اتنا بڑا انعام۔‘‘ ویڈیو میں مغربی بنگال کے سابق چیف الیکٹورل افسر منوج اگروال کو چیف سکریٹری بنائے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ 2 انتخابی افسران اب سویندو کی ٹیم کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ سبکدوش آئی اے ایس افسر سبرت گپتا اور منوج اگروال ایس آئی آر عمل سے بھی جڑے ہوئے تھے۔
Published: undefined
اس معاملہ میں ترنمول کانگریس نے بھی سوال اٹھائے ہیں، لیکن بی جے پی نے دونوں تقرریوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ’اہلیت کی بنیاد پر‘ تقرری ملی ہے۔ بی جے پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی ملک کے قوانین کے وقار کو بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کر رہی ہے۔ دوسری طرف ٹی ایم سی لیڈر ساکیت گوکھلے نے اس قدم کو ’بے شرمی کی حد‘ بتایا اور ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ڈیریک او برائن نے طنزیہ لہجہ میں اسے ’اتفاق‘ کہا۔ گوکھلے کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ قدم بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ’انتخاب چوری‘ کی کھلی حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالتیں ’اندھی‘ ہیں، یا ملی بھگت کر رہی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined