
یو پی آئی / آئی اے این ایس
یو پی آئی پر ایم ڈی آر لگانے کی تجویز کی مخالفت میں تاجروں نے 2 اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس احتجاج کو دہلی موبائل تاجروں کی بھی حمایت ملی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کے مطابق دہلی موبائل ایسوسی ایشن اور آل انڈیا موبائل ریٹیلرس ایسوسی ایشن نے بھی 2 اکتوبر کو ’نو یو پی آئی ڈے‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے موبائل ہب کرول باغ میں بھی تاجر 2 اکتوبر کو یو پی آئی سے لین دین نہیں کریں گے۔
سی ٹی آئی نے دہلی اور ملک بھر کے دکانداروں اور تاجروں کو 2 اکتوبر کو یو پی آئی کیو آر کوڈ، اسکینر اور ساؤنڈ باکس کو سیاہ کپڑے سے ڈھک کر احتجاج درج کرانے اور نقد میں لین دین کرنے کی اپیل کی ہے۔ سی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ دہلی اور ملک بھر میں 2 ہزار سے زائد مقامات پر ’نو یو پی آئی ڈے‘ منایا جائے گا۔ سی ٹی آئی 2 اکتوبر کو لاجپت نگر مارکیٹ سے اس مہم کا آغاز کرے گا۔
واضح رہے کے تاجروں کا احتجاج 15 اکتوبر 2026 سے 2 ہزار سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگی پر ایم ڈی آر یعنی مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ لگائے جانے کی تجویز کو لے کر ہے۔ سی ٹی آئی نے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک کے تقریباً 6 کروڑ دکانداروں، تاجروں اور کاروباری افراد پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ سی ٹی آئی سکریٹری جنرل گرمیت اروڑا اور رمیش آہوجا نے کہا کہ تاجر ڈیجیٹل انڈیا کے خلاف نہیں ہے، لیکن کم منافع پر کام کرنے والے ریٹیلر اور ڈسٹری بیوٹر پر اضافی چارج عائد کرنے سے کاروبار مہنگا ہو جائے گا۔
سی ٹی آئی کے مطابق مجوزہ نظام میں 3 ہزار روپے کی یو پی آئی ادائیگی پر 12 روپے اور 50 ہزار کی ادائیگی پر 200 روپے تک کا چارج دکاندار کو دینا ہوگا۔ بڑی رقم پر چارج کی زیادہ سے زیادہ حد 300 روپے طے کی گئی ہے۔ سی ٹی آئی کے نائب صدر راہل ادلکھا اور سکریٹری کنج ناکرا کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلہ سے ملک کے 6 کروڑ دکانداروں، تجاروں اور کاروباری افراد میں مایوسی ہے اور ان پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔
سی ٹی آئی نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتیا کہ مالی سال 26-2025 میں یو پی آئی کے ذریعہ مجموعی طور پر 24162 کروڑ ٹرانزیکشن ہوئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 314 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ تنظیم کے مطابق ملک کے مجموعی ڈیجیٹل لین دین میں یو پی آئی کی حصہ داری تقریباً 84 فیصد رہی۔ اس میں پرسن ٹو مرچنٹ یعنی پی2ایم ادائیگی کی مالیت تقریباً 198 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ سی ٹی آئی کے مطابق 2 ہزار روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین تعداد کے لحاظ سے صرف 4 فیصد تھے، لیکن ان کی مالیت تقریباً 131 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ یعنی یہ ٹرانزیکشن تاجروں کو ملے مجموعی پی2ایم یو پی آئی ادائیگیوں کی مالیت کا تقریباً 66 فیصد تھے۔
سی ٹی آئی چیئرمین برجیش گوئل نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر 15 اکتوبر سے 2 ہزار روپے سے زیادہ کی یو پی آئی ادائیگی پر ایم ڈی آر چارج لگ جائے گا تو ایسے یو پی آئی پیمنٹ میں 50 فیصد تک کی کمی آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں پھر سے نقد لین دین کا رواج بڑھ سکتا ہے۔ سی ٹی آئی کے مطابق دہلی اور ملک کے دکانداروں، تاجروں اور ایم ایس ایم ای سیکٹر نے یو پی آئی لین دین کو مکمل طور پر اپنا لیا ہے، لیکن اضافی چارج کا بوجھ پڑنے پر تاجر نقد لین دین کی جانب لوٹ سکتے ہیں۔ سی ٹی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چھوٹے تاجروں، روزمرہ کی مارکیٹ اور معیشت کے مفاد میں اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے اور یو پی آئی کو پہلے کی طرح مکمل طور پر مفت رکھا جائے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔