
ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ / تصویر اے آئی
نئی دہلی سے لے کر واشنگٹن تک کافی دنوں سے جس تجارتی معاہدے کا انتظار ہو رہا تھا، اس کے حوالے سے اب اہم خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ہندوستان کے 2 روزہ دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اشارے دیے ہیں کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی معاہدہ کچھ ہی ہفتوں میں مکمل ہو جائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اس معاہدے پر جلد مہر لگنے کی امیدیں ظاہر کی ہیں۔ اب پوری توجہ تکنیکی باریکیوں کو سلجھانے پر ہے۔ منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے تجارتی معاہدے پر سوالات کیے گئے۔ بلومبرگ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ہندوستان معاہدہ کرنا چاہتا ہے، امریکہ بھی معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔ دونوں ممالک معاہدے کے بہت زیادہ قریب ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یہ معاہدہ کافی مختلف نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایک برس سے زیادہ عرصے سے چل رہی اس بات چیت کو لے کر دونوں ممالک کے افسران میں کافی جوش و خروش ہے۔ ہندوستان میں امریکہ کے سفیر سرجیو گور نے بھی حال ہی میں نئی دہلی کے بلومبرگ نیو اکانومی فورم میں کہا تھا کہ معاہدے سے متعلق اہم مسائل حل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک اب اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ وہیں ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فریقین اب حتمی نتیجے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
2 دنوں کے ہندوستان دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بھی اس معاہدے کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ یہ معاہدہ اب مہینوں میں نہیں، بلکہ کچھ ہفتوں میں ہی حتمی شکل اختیار کر لے گا۔ روبیو نے کہا کہ وہ براہ راست اس معاہدے پر بات چیت نہیں کر رہے ہیں، کیونکہ یہ عمل امریکی تجارتی نمائندے کے ذریعے ہینڈل کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ وہ اس کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مارکو روبیو کے مطابق فی الحال بات چیت کچھ تکنیکی پہلوؤں کو حل کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا اعلان کرنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ ہر شق کی زبان کو صحیح طور پر سمجھا جائے اور فریقین اس پر متفق ہوں۔
روبیو نے کہا کہ تکنیکی باریکیاں بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ دونوں ممالک کو اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ معاہدے میں لکھی گئی زبان کا مطلب دونوں ممالک کے لیے ایک ہی ہے۔ فی الحال بات چیت اس سطح پر پہنچ چکی ہے۔ جب روبیو سے پوچھا گیا کہ کیا ہندوستان کو دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر ٹیرف ریٹ مل سکتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ کسی بھی تجارتی معاہدے کا مقصد موجودہ شرائط سے بہتر شرائط حاصل کرنا ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ کرنے کا براہ راست مقصد یہ ہے کہ موجودہ شرحوں کے مقابلے میں بہتر ریٹ حاصل کیے جائیں۔
روبیو نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کو طویل عرصے تک پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں ممالک کے اقتصادی مفادات کو پورا کرے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ دیگر ممالک کی طرح ہندوستان بھی معاہدے کے دوران اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھے گا، لیکن باہمی تعلقات اختلافات کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ روبیو نے کہا کہ جب آپ دوست اور اتحادی ہوتے ہیں اور آپ کے درمیان کافی مماثلتیں ہوتی ہیں، تو اس سے اختلافات کو دور کرنے اور دونوں کے لیے فائدہ مند راستہ نکالنے میں مدد ملتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔