
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی، تصویر/آئی اے این ایس
تلنگانہ حکومت جلد ہی ایرو اسپیس اور دفاعی پالیسی 2.0 متعارف کرانے جا رہی ہے۔ اس کا مقصد دفاعی شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور حیدرآباد کو دفاعی تحقیق کے لیے بہترین مقام کے طور پر فروغ دینا ہے۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے یہ اطلاع دی۔ ہفتہ (24 اکتوبر) کی رات ’رکشا ایکسپو‘ کے کَرٹین ریزر پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ویژن ’رکشا ایکسپو‘ کو ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کے طور پر ترقی دینا ہے، جہاں دفاعی شعبہ سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز اکٹھے ہوں اور بامعنی بات چیت ہو سکے۔
واضح رہے کہ ’رکشا ایکسپو‘ کا انعقاد ’انویسٹ تلنگانہ گلوبل سمٹ‘ کے تحت 7 سے 9 دسمبر تک حیدرآباد کے ’بھارت فیوچر سٹی‘ میں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ ’رکشا ایکسپو‘ ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جو گلوبل اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایم) اور چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو ایک ساتھ لائے گا۔ حکومت صنعتوں کے نمائندوں، دفاع اور سلامتی کے سینئر افسران، ماہرین اور اسٹارٹ اپس سے اختراعی خیالات اور جدید ترین ٹیکنالوجی لانے کی امید کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال منعقدہ سمٹ کا پہلا ایڈیشن بہت کامیاب رہا۔ ہندوستان میں حیدرآباد کی اہم اور اسٹریٹجک حیثیت ہے۔ ان کے مطابق حیدرآباد غیر معمولی طور پر محفوظ شہر ہے اور یہاں تحقیق کے کئی اہم ادارے موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستانی فوج اور ہندوستانی فضائیہ کے کئی اہم اسٹریٹجک مراکز بھی یہیں واقع ہیں۔ اگرچہ تلنگانہ جنوبی ہندوستان کی واحد ایسی ریاست ہے جس کی کوئی ساحلی پٹی نہیں ہے، پھر بھی یہ ہندوستانی بحریہ کو اہم خدمات فراہم کرتی ہے۔ تلنگانہ کے ضلع وکارآباد کے داماگنڈم ریزرو فاریسٹ میں انتہائی کم فریکوئنسی (وی ایل ایف) کا ایک بحری ریڈار اسٹیشن تعمیر کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا کہ دفاعی شعبے کو باصلاحیت نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ آئی آئی ٹی، آئی آئی آئی ٹی، این آئی ٹی، آئی ایس بی اور بی آئی ٹی ایس جیسے معروف تعلیمی ادارے دفاعی شعبے کی ضروریات پوری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے پہلے ہی ’ینگ انڈیا اسکلز یونیورسٹی‘ قائم کی ہے اور آئی ٹی آئی کو ایڈوانس ٹریننگ سنٹرز (اے ٹی سی) میں اپ گریڈ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کامیاب انکیوبیٹرز بھی کام کر رہے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ ہندوستان کو دفاعی شعبے میں عالمی رہنما کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو دفاعی ٹیکنالوجی درآمد کرنے والے ملک کے بجائے برآمد کرنے والا ملک بننا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اس ویژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پہلے ہی اہم کوششیں کر رہا ہے، لیکن ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق مزید بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنا تعاون بڑھائیں۔ تلنگانہ کو ہندوستان کے دفاعی شعبے کا سب سے بڑا صنعتی مرکز بننا چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس نہ صرف دفاعی شعبہ بلکہ اس سے متعلقہ شعبوں، مثلاً خلائی تحقیق، ایرو اسپیس، سائبر سیکورٹی، مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بھی تعاون کو فروغ دے گا۔ سرمایہ کاروں سے تلنگانہ میں اپنی مجوزہ سرمایہ کاری دوگنی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے یقین دلایا کہ حکومت انہیں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔