قومی خبریں

’کیا بہار دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا؟‘ تیجسوی یادو کا حکومت پر حملہ

تیجسوی یادو نے بہار حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سماجی تحفظ پنشن کی ادائیگی کے لیے ہنگامی فنڈ سے 3662 کروڑ روپے نکالنے کی منظوری دی گئی ہے، جو مالی بحران کی علامت ہے

<div class="paragraphs"><p>تیجسوی یادو / آئی اے این ایس</p></div>

تیجسوی یادو / آئی اے این ایس

 

بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے ریاست کی مالی صورتِ حال پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار شدید مالی بحران سے گزر رہا ہے اور حکومت کو سماجی تحفظ پنشن کی ادائیگی کے لیے بہار ہنگامی فنڈ سے 3662 کروڑ روپے نکالنے کی منظوری دینی پڑی ہے۔

Published: undefined

تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بہار کابینہ نے مئی، جون اور جولائی 2026 کی سماجی تحفظ پنشن کی ادائیگی کے لیے ہنگامی فنڈ کے استعمال کی منظوری دی ہے۔ ان کے مطابق ہنگامی فنڈ کا مقصد غیر متوقع بحرانوں، قدرتی آفات یا مالی مشکلات کے دوران فوری ضروریات پوری کرنا ہوتا ہے لیکن اگر پنشن جیسی معمول کی ادائیگیوں کے لیے بھی اسی فنڈ کا سہارا لینا پڑے تو یہ ریاست کی مالی صحت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے وہ مسلسل ریاست کی خراب مالی حالت کی جانب توجہ دلا رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ چار سے پانچ ماہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے متعلق بعض ادائیگیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ سرکاری خزانے پر دباؤ بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود متعدد ٹھیکیداروں کو ان کی واجب الادا رقم ادا نہیں کی گئی۔

Published: undefined

تیجسوی یادو نے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2023-24 میں منظور ہونے والی متعدد منصوبہ جاتی اسکیموں پر ابھی تک عملی کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2025 اور 2026 میں کیے گئے کئی اعلانات بھی کاغذوں تک محدود ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، طلبہ کو وظیفوں کی رقم نہیں مل رہی اور اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم بھی مؤثر انداز میں آگے نہیں بڑھ پا رہی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ فنڈ کی کمی کے باعث کابینہ نے بہار ریاستی فصل امدادی اسکیم کو بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تیجسوی یادو کے مطابق یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست کی مالی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔

Published: undefined

اپنے بیان میں انہوں نے وزیرِ اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو واضح طور پر بتائیں کہ دہائیوں سے جاری دوہری انجن حکومت کے باوجود ایسی صورتحال کیوں پیدا ہوئی۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ حکومت کو غیر ضروری سیاسی مباحث کے بجائے ریاست کی معاشی حالت پر توجہ دینی چاہیے اور بہار کے عوام کو موجودہ مالی صورتحال کے بارے میں اعتماد میں لینا چاہیے۔

ریاستی حکومت کی جانب سے تیجسوی یادو کے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ان کے بیانات نے بہار کی مالی حالت اور حکومتی پالیسیوں پر نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined