
تھلاپتی وجے / آئی اے این ایس
تمل ناڈو کی ٹی وی کے حکومت نے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کے خصوصی مشیر (او ایس ڈی) کے طور پر جیوتشی رکی رادھن پنڈت کی تقرری کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ تقرری کے محض ایک روز بعد ہی شدید مخالفت اور سیاسی تنقید کے باعث لیا گیا ہے۔ حکومت کے پرنسپل سکریٹری نے 13 مئی کو ایک حکم جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ رکی رادھن پنڈت کی او ایس ڈی کے طور پر تقرری کو فوری طور پر واپس لیا جاتا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ رادھن پنڈت نہ صرف ایک جیوتشی ہیں، بلکہ ٹی وی کے پارٹی کے ترجمان بھی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران وہ وزیر اعلیٰ کے انتہائی قریبی ساتھی رہے۔ اس تقرری کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر تیکھے حملے کیے تھے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کے راجیہ سبھا رکن آئی ایس انبدورئی نے سوشل میڈیا پر طنز کستے ہوئے لکھا کہ ’’جیوتشی اپنی خود کی قسمت کا اندازہ نہیں لگا پائے اور وجے حکومت کے برے دن شروع ہو گئے۔‘‘ ڈی ایم کے کے ترجمان ٹی کے ایس ایلنگون نے کہا کہ ’’جیوتشی صرف پیشین گوئی کر سکتا ہے، لیکن حکومت چلانے کے لیے قوانین اور اختیارات کی سمجھ رکھنے والے مشیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کو اپنی پارٹی سے زیادہ جیوتشی پر بھروسہ ہے۔‘‘
Published: undefined
اسمبلی میں بھی اس مسئلے پر کافی ہنگامہ ہوا۔ ڈی ایم کے کی اتحادی جماعت ایم جے کے کے صدر تمیمُن انصاری نے کہا کہ حکومت میں جیوتشی کے فارمولے شامل نہیں ہونے چاہئیں۔ ذاتی اعتماد الگ بات ہے، لیکن اسے سرکاری کام کاج میں نہیں لانا چاہیے۔ ڈی ایم ڈی کے کی جنرل سکریٹری پریملتا وجے کانت نے بھی اس تقرری کی سخت مذمت کی۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ان تنازعات کے درمیان ٹی وی کے حکومت نے بدھ کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر دی۔ فلور ٹیسٹ کے دوران حکومت کو 144 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہوئی۔ ٹی وی کے اور اس کے اتحادیوں کے پاس ایوان میں پہلے سے ہی 120 اراکین تھے، لیکن اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکین اسمبلی کی حمایت نے حکومت کی جیت کو یقینی بنا دیا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined