قومی خبریں

تمل ناڈو: کرور متاثرین کو معاوضہ تقسیم کرنے سے وزیر اعلیٰ وجے کو روکنے والی ڈی ایم کے کی عرضی سپریم کورٹ سے خارج

جسٹس کے وی وشوناتھ اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ نے ڈی ایم کے سے کہا کہ ’’کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ عدالت اس بات کا فیصلہ کرے کہ وزیر اعلیٰ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ تمل ناڈو وجے / آئی اے این ایس</p></div>

وزیر اعلیٰ تمل ناڈو وجے / آئی اے این ایس

 
IANS

سپریم کورٹ نے ایک معاملہ پر سماعت کرتے ہوئے ڈی ایم کے کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ عدالت کا کام کسی وزیر اعلیٰ کے دورے کو کنٹرول کرنا نہیں ہے۔ جسٹس کے وی وشوناتھ اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ نے کہا کہ کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ عدالت اس بات کا فیصلہ کرے کہ وزیر اعلیٰ کو کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟ دراصل ڈی ایم کے نے موجودہ ٹی وی کے (تملگا ویتری کژگم) حکومت کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔ ڈی ایم کے نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کرور کا دورہ کر بھگدڑ کے متاثرین سے مل کر گواہوں کو متاثرہ خاندانوں سے مل کر گواہوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

Published: undefined

سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم کسی بھی وزیر اعلیٰ کی سرگرمیوں کا تعین نہیں کریں گے۔ ججوں نے ڈی ایم کے کے وکیل سے کہا کہ وہ عدالت کو سیاسی لڑائی کا میدان نہ بنائیں۔ اگر حکمراں جماعت ٹی وی کے کے لیڈر حادثے کے متعلق بیان دے رہے ہیں تو ڈی ایم کے بھی اس کے جواب میں بیان دے سکتی ہے۔ یہ لڑائی عدالت کے باہر لڑی جانی چاہیے۔

Published: undefined

ڈی ایم کے نے اپنی عرضی میں یہ بھی کہا تھا کہ گزشتہ سال ٹی وی کے کی ریلی میں ہوئے حادثے کی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ وجے 41 لوگوں کی موت والے اس حادثے کے متاثرین کو 10-10 لاکھ روپے معاوضہ اور سرکاری نوکری دینے کے لیے کرور جانے والے ہیں۔ ڈی ایم کے نے اسی کی مخالفت کی تھی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں ٹی وی کے کی کرور میں ایک ریلی ہوئی تھی، جس میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔ اس دوران 41 لوگ جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے کی تحقیقات مدراس ہائی کورٹ نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو سونپی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے معاملے کی تحقیقات ریاستی پولیس سے لے کر سی بی آئی کے حوالے کر دی تھی۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ تحقیقات کی نگرانی عدالت کی ایک کمیٹی بھی کر رہی ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined