
فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس
چنئی پولیس نے ’جیم گرینائٹ‘ کے چیئرمین آر ویرمنی سے متعلق پوکسو معاملے میں فرار کاروباری این پرکاش کے خلاف ’لُک آؤٹ سرکلر‘ (ایل او سی) جاری کر دیا ہے۔ پرکاش اس معاملہ کے شریک ملزم ایال رتنام کے برادر نسبتی ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ پرکاش فرار ہیں۔ انہیں بیرون ملک فرار ہونے سے روکنے کے لیے ان کے خلاف ’انٹرپول بلیو کارنر نوٹس‘ جاری کرانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ چنئی پولیس کے مطابق معاملہ درج ہونے کے بعد پرکاش نے مبینہ طور پر ثبوت مٹانے اور جرم چھپانے کی کوشش کی تھی، جس کے پیش نظر ان کے پاسپورٹ نمبر کا استعمال کرتے ہوئے ان کا پاسپورٹ بلاک کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چنئی پولیس (جی سی پی) نے کاروباری این پرکاش کنہیا کا پاسپورٹ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے ’جیم گرینائٹس‘ کے چیئرمین آر ویرمنی کو نابالغ لڑکیوں کے خلاف کیے گئے جنسی جرائم کو چھپانے میں مدد کی تھی۔ ویرمنی کے گھر کے سیکورٹی گارڈ سینو عرف سرینواسن کو ایس آئی ٹی نے 2 معاملوں میں گرفتار کیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اسے معلوم تھا کہ گھر میں بچوں کو لایا جا رہا ہے، اس کے باوجود اس نے حکام کو اس کی اطلاع نہیں دی۔
اب تک اصل ملزم ویرمنی سمیت 8 ملزمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور انہیں پوزھل سنٹرل جیل میں رکھا گیا ہے۔ ویرمنی، شانتی، مہندر سمھن، لازر، گنیشن، بابو، پارتھیبن اور شکتی ویل کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کوناتور میں ملزم گنیشن کے ٹھکانوں پر تلاشی لی گئی، جہاں سے معاملے سے متعلق اہم دستاویزات ضبط کی گئی ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ مزید تفتیش جاری ہے اور جلد ہی چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ این پرکاش ’جیم گروپ‘ کی کمپنیوں میں مشیر کے طور پر کام کرتے تھے۔ پوچھ گچھ کے لیے پیش نہ ہونے پر پولیس پہلے ہی ان کے خلاف ایل او سی جاری کر چکی تھی۔ اب پولیس ان کا سراغ لگانے کے لیے ’انٹرپول بلیو کارنر نوٹس‘ جاری کرانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ تفتیش کاروں نے پرکاش کا ایک بینک کھاتہ منجمد کر دیا ہے، جس میں 24 کروڑ روپے جمع ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ 3 برس کے ان کے لین دین کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ ایس آئی ٹی نے پرکاش اور ویرمنی کی کمپنیوں کے درمیان ہونے والے مالی لین دین کا پتہ لگایا ہے۔ اس دوران پولیس نے پوزھل سنٹرل جیل میں ایک ’شناختی پریڈ‘ منعقد کی، تاکہ معاملے کی ایک نابالغ متاثرہ ملزمین کی شناخت کر سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔