
ملک کی جنوبی ریاست تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی صرف سیاست کا ہی مرکز نہیں ہے بلکہ ہندوستان کا ’گیٹ وے آف ایجوکیشن‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کا آئی آئی ٹی مدراس برسوں سے ملک میں پہلے نمبر پر برقرار ہے۔ یہی نہیں ہندوستان کی سب سے قدیمی یونیورسٹیوں میں سے ایک مدراس یونیورسٹی بھی یہیں واقع ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اعلیٰ ادارے ہیں جو یہاں تعلیمی میدان میں سرگرم ہیں۔
Published: undefined
ماہرین کے مطابق تمل ناڈو کے انتخابی نتائج صرف اقتدار کا ہی فیصلہ نہیں کرتے ہیں بلکہ ان لاکھوں طلبا کے مستقبل کی سمت بھی طے کرتے ہیں جو یہاں کے بڑے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ تمل ناڈو ہندوستان کا وہ صوبہ ہے جس نے اسکولی سطح پر ہی مردو خواتین کے درمیان مساوات حاصل کرلی ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں تعلیمی مراکز ہیں جن سے نکلنے والے طلبا ملک و دنیا میں بڑے عہدوں پر فائز ہوکر اپنی مہارت کا لوہا منوارہے ہیں۔
Published: undefined
ریاست میں کوئمبٹور اپنی مختلف خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔ اسے تمل ناڈو کا ’کوچنگ اور کیرئیر ہب‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں پرائیویٹ اور سرکاری انجینئرنگ کالج ہیں جو ملک بھر کے طلبا کو متوجہ کرتے ہیں۔ زراعت (ایگریکلچر) اور کپڑا (ٹیکساٹل) تعلیم کے معاملے میں یہ شہر پورے ملک میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔
Published: undefined
اسی طرح مدورئی ثقافت کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کا بھی بڑا مرکز ہے۔ مدورئی کامراج یونیورسٹی یہاں کی ایک اہم یونیورسٹی ہے جس نے ریسرچ اور فنکاری کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ تروچراپلی (ترچی) منیجمنٹ کا سرمور بھی کہا جاتا ہے۔ ترچی اپنی معیاری تعلیم اور منیجمنٹ کورسیز کے لیے پہچان رکھتا ہے۔ یہاں کا این آئی ٹی ترچی انجینئرنگ کے شعبے میں ملک کے اہم اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ آئی آئی ایم ترچی منیجمنٹ کی پڑھائی کے لیے اہم مرکز ہے۔
Published: undefined
اس فہرست میں اناملائی بھی شامل ہے جو پورے ملک کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں کی انا ملائی یونیورسٹی ملک کی سب سے بڑی ریزیڈینشیل یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جو میڈیکل، انجینئرنگ اور ایگریکلچر سمیت تقریباً ہر مضمون کی تعلیم فراہم کرتی ہے۔ اس طرح تعلیم کے لحاظ سے بھی تمل ناڈو خاص اہمیت رکھتا ہے جہاں ہر سال ملک اور بیرون ملک سے ہزاروں کی تعداد میں طلبا پہنچتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا