
کپل سبل / آئی اے این ایس
تمل ناڈو میں نئی حکومت کی تشکیل سے پہلے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں، جب ریاست کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے پہلے ٹی وی کے سربراہ وجے کو حکومت سازی کے لیے فوری دعوت دینے سے گریز کیا۔ اس معاملے پر سینئر وکیل اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گورنروں پر آئین کے غلط استعمال کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ بی جے پی کے ایجنٹ کی طرح کام کرتے ہیں۔
Published: undefined
کپل سبل نے کہا کہ وجے اسمبلی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں، اس لیے انہیں حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت کا اصول یہی ہے کہ سب سے بڑی جماعت کے قائد کو پہلے حکومت سازی کی دعوت دی جائے اور پھر ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع ملے۔ سبل نے سرکاریا کمیشن کی سفارشات اور آئینی روایتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخاب کے بعد بننے والے اتحاد کو فوری بنیاد پر اکثریت نہیں مانا جا سکتا مگر افسوس کہ ان اصولوں کو سننے والا کوئی نہیں۔
Published: undefined
دریں اثنا ٹی وی کے سربراہ وجے نے جمعرات کو تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ دوسری جانب گورنر ہاؤس کی سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر نے ٹی وی کے صدر سی جوزف وجے کو ملاقات کے لیے مدعو کیا تھا۔
Published: undefined
بیان کے مطابق ملاقات کے دوران گورنر نے واضح کیا کہ تمل ناڈو اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے ضروری اکثریتی حمایت ابھی ثابت نہیں ہو سکی ہے۔ ٹی وی کے نے پہلی بار اسمبلی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے غیر معمولی کارکردگی دکھائی اور 234 رکنی اسمبلی میں 108 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، تاہم اکثریت کے لیے درکار 118 نشستوں سے کچھ سیٹیں کم رہ گئیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: سوشل میڈیا