
ویلامنڈی نٹراجن، تصویر/آئی اے این ایس
اے آئی اے ڈی ایم کے کو ایک اور سیاسی جھٹکا لگا ہے۔ تمل ناڈو کے سابق وزیر سیاحت اور سینئر رہنما ویلامنڈی نٹراجن نے برسر اقتدار تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کا دامن تھام لیا ہے۔ اس سے اپوزیشن خیمے میں سیاسی ہلچل مزید تیز ہو گئی ہے۔ تروچی کے اہم رہنما رہے نٹراجن طویل عرصے تک اے آئی اے ڈی ایم کے سے وابستہ رہے اور انہیں وسطی تمل ناڈو کا ایک مضبوط زمینی آرگنائزر مانا جاتا تھا۔ وہ 2016 میں تروچی ایسٹ اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور بعد میں اس وقت کی وزیر اعلیٰ جے جے للیتا کی قیادت والی اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت میں وزیر سیاحت بھی رہے۔
Published: undefined
جے للیتا کے انتقال کے بعد نٹراجن نے ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ کے اندرونی اقتدار کی جنگ کے دوران سابق وزیر اعلیٰ او پنیریسلوم کا ساتھ دیا۔ تاہم 2026 کے اسمبلی انتخاب سے قبل پنیریسلوم کے ڈی ایم کے میں شامل ہونے کے بعد وہ ایڈا پادی کے پلانی سوامی کی قیادت والے اے آئی اے ڈی ایم کے خیمے میں واپس لوٹ آئے تھے، لیکن پارٹی کے اندر مسلسل جاری اندرونی بحران کی وجہ سے اب انہوں نے ٹی وی کے کا رخ کر لیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نٹراجن نے بدھ کی دیر رات ٹی وی کے کے جنرل سکریٹری این آنند سے ملاقات کی اور باقاعدہ طور پر پارٹی میں شامل ہو گئے۔
Published: undefined
ٹی وی کے میں شامل ہونے کے بعد نٹراجن نے کہا کہ جے للیتا کے انتقال کے بعد اے آئی اے ڈی ایم کے مسلسل اندرونی تقسیم اور انتخابی شکستوں سے نکل نہیں پائی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں طویل عرصے سے پارٹی میں ہوں۔ جے للیتا کے انتقال کے بعد پارٹی ٹوٹ گئی اور اسے مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے کئی بار مشورہ دیا کہ تمام لیڈران مل کر مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں، لیکن میری بات نہیں مانی گئی۔ انتخابات کے بعد بھی پارٹی میں تقسیم کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ٹی وی کے قیادت کی تعریف کرتے ہوئے نٹراجن نے کہا کہ پارٹی نے پیریار، سی این انادورئی، ایم جی رام چندرن اور جے للیتا جیسے رہنماؤں کے نظریات کو اپنایا ہے، جس سے متاثر ہو کر انہوں نے پارٹی جوائن کرنے کا فیصلہ کیا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ نٹراجن کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اے آئی اے ڈی ایم کے پہلے ہی سیاسی عدم استحکام کا سامنا کر رہی ہے۔ حال ہی میں اس کے 4 اراکین اسمبلی پارٹی چھوڑ کر ٹی وی کے میں شامل ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اے آئی اے ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ دھنپال نے اس پورے معاملے کی تحقیقات مرکزی ایجنسیوں سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ تمل ناڈو کی سیاست میں بڑے پیمانے پر ’ہارس ٹریڈنگ‘اور پیسے کے لین دین کے ذریعے پارٹی لیڈران کو توڑا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined