
ایم کے اسٹالن اور راہل گاندھی، تصویر @mkstalin
تمل ناڈو میں 234 رکنی اسمبلی کا انتخاب رواں سال ہونے والا ہے۔ اس کے لیے جاری سرگرمیوں کے درمیان ڈی ایم کے اور کانگریس نے ایک بار پھر آپس میں اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی قیادت میں ڈی ایم کے نے ایک بڑے اتحاد کی تیاری کی ہے، جس میں مجموعی طور پر 21 پارٹیاں شامل ہوئی ہیں۔ کانگریس کو اس اتحاد میں 28 اسمبلی سیٹوں پر امیدوار اتارنے کا موقع دیا گیا ہے۔
Published: undefined
موصولہ اطلاع کے مطابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اور تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے صدر سیلواپیرونتھاگائی کے درمیان آج انتہائی اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں انتخابی حلقوں کی تقسیم پر آخری مہر لگا دی گئی۔ ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان ہوئے معاہدہ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کانگریس تمل ناڈو میں 28 اسمبلی سیٹوں پر امیدوار اتارے گی۔ ساتھ ہی آئندہ راجیہ سبھا انتخاب میں بھی کانگریس پارٹی کے لیے ایک سیٹ محفوظ رکھی گئی ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ ڈی ایم کے نے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر تروچی شیوا پر ایک بار پھر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے انھیں راجیہ سبھا رکن کی شکل میں برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ کانسٹنٹائن رویندرن کو پہلی بار راجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اتحاد میں ڈی ایم کے کو 2، کانگریس کو ایک اور ڈی ایم ڈی کے کو 1 راجیہ سبھا سیٹ ملی ہے۔
Published: undefined
ڈی ایم کے نے ایک پریس ریلیز جاری کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’تمل ناڈو کی سیاست کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ ایک ہی اتحاد بغیر ٹوٹے اور نئی پارٹیوں کو شامل کرتے ہوئے چوتھی بار انتخابات کا سامنا کر رہا ہے۔ تمل ناڈو کی سیاست کی اب تک کی تاریخ رہی ہے کہ اسمبلی انتخاب کے لیے تیار اتحاد اگلے انتخاب تک کبھی قائم نہیں رہ پایا۔‘‘ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ اسٹالن نے اپنی مضبوط شخصیت اور خیر سگالی والے رویہ سے یہ نئی تاریخ رقم کی ہے۔
Published: undefined
ڈی ایم کے نے اپوزیشن لیڈران پر تلخ حملہ بھی کیا۔ پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈران گزشتہ 2 سالوں سے اتحاد ٹوٹنے کی پیشین گوئی کر رہے تھے، لیکن ان کی خواہشات پوری نہیں ہو پائیں۔ ڈی ایم کے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کل کے دہلی انٹرویو تک ایڈپادی پلانی سوامی اتحاد ٹوٹنے کی امید لگائے بیٹھے تھے، لیکن آخر میں وہ تنہا رہ گئے۔‘‘ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ برسراقتدار پارٹی کی حمایت میں لہر کو دیکھتے ہوئے کئی نئی پارٹیاں بھی اس محاذ میں شامل ہو رہی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined