
ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں 23 اپریل کو تمام 234 اسمبلی حلقوں میں ہوئی ووٹنگ کے بعد پیر کے روز ہونے والی ووٹوں کی گنتی کی تیاریوں کے درمیان گنتی مراکز پر تقریباً 18,000 پولس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ متعلقہ اتھارٹیوں کی جانب سے تمام 62 گنتی مراکز پر سخت حفاظتی انتظامات یقینی بنائے گئے ہیں۔ جہاں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کو محفوظ رکھا گیا ہے اور انہیں سخت نگرانی میں کھولا جائے گا۔
Published: undefined
ووٹوں کی گنتی کا عمل اس بات کا تعین کرے گا کہ ریاست میں اگلی حکومت کون بنائے گا، اس معاملے پر سیاسی جماعتوں اور عام لوگوں کے درمیان شدید تجسس پایا جارہا ہے۔ حالیہ انتخابات میں چہار رُخی مقابلہ دیکھنے کو ملا جس میں ڈی ایم کے زیرقیادت سیکولر پروگریسو الائنس(ایس پی اے)، اے آئی اے ڈی ایم کے زیرقیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے)، نام تاملر کچی (این ٹی کے) اور اداکار وجے کی تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) شامل رہے۔
Published: undefined
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹی وی کے کے میدان میں اترنے سے ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے انتخابی جغرافیہ بدل گیا ہے جس سے اندازہ لگانا مزید مشکل ہوگیا ہے۔ بتائج سے پہلےاہم سوالات گردش کررہے ہیں اور پوچھا جارہا ہے کہ کیا ڈی ایم کے اقتدار میں واپس آ کر تاریخ رقم کرے گی؟ کیا اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد واپسی کر پائے گا؟ کیا وجے کنگ میکر بنیں گے یا مضبوط اپوزیشن کے طورپر ابھریں گے؟
Published: undefined
ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے پوسٹل بیلٹ کے ساتھ شروع ہوگی، اس کے بعد صبح 8:30 بجے ای وی ایم کے ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوگا۔ اس موقع پر پرامن عمل کو یقینی بنانے کے لیے ریاست بھر میں سیکورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ گنتی مراکز پر تعینات اہلکاروں کے علاوہ مسلح نیم فوجی دستوں کی 40 سے زائد کمپنیاں بھی تعینات کی گئی ہیں۔ تمل ناڈو میں مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ پولیس اہلکار ڈیوٹی پر رہیں گے۔ یہ وسیع حفاظتی انتظامات ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سندیپ رے راٹھور کے حکم پر نافذ کیے گئے ہیں۔ سینئر افسران — آئی جی، ڈی آئی جی، کمشنر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو اپنے اپنے علاقوں میں سخت چوکسی برقرار رکھنے کی ہدایات دی گئی ہے۔
Published: undefined
صرف چنئی میں ہی کوئین میری کالج، انا یونیورسٹی (گنڈی) اور لویولا کالج میں گنتی کے 3 مراکز قائم کیے گئے ہیں، جہاں تقریباً 3000 پولیس اہلکار تعینات رہیں گے۔ مزید برآں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے میٹروپولیٹن ایریا میں 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
Published: undefined
نتائج کے اعلان کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے دفاتر جیسے حساس مقامات پر بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر ارچنا پٹنائک کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی گئی ہیں۔ ای وی ایم ووٹوں کے لیے 234 ہال اور پوسٹل بیلٹ کے لیے 240 ہال بنائے گئے ہیں۔ کُل 3,324 کاؤنٹنگ ٹیبل استعمال کی جائیں گی۔ اس عمل میں 10,545 اہلکار شامل ہوں گے جن کی مدد سے 4,624 مائیکرو آبزرور تعینات رہیں گے تاکہ شفافیت اور انصاف کو یقینی بنایا جاسکے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ہر اسمبلی حلقے کے لیے ایک کاؤنٹنگ سپروائزر کا تقرر کیا ہے، اس عمل کی نگرانی کے لیے 234 سپروائزر بنائے گئے ہیں۔ مزید برآں پوسٹل بیلٹس کی گنتی کے لیے 1,135 اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کو تعینات کیا گیا ہے جہاں ہر 500 ووٹ پر ایک کاؤنٹنگ ٹیبل لگائی گئی ہیں۔
Published: undefined
اس سلسلے میں سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے تمام گنتی مراکز پر 3 لیئر سیکورٹی نظام نافذ کیا گیا ہے۔ پہلی بار انٹری کو کنٹرول کرنے کے لیے کیو آرکوڈ پر مبنی فوٹو شناختی کارڈ نافذ کیے گئے ہیں، جس سے صرف مجاز اہلکار کو ہی تصدیق کے بعد داخل ہونے کی اجازت ملے گی۔ نتائج کا اعلان ہر حلقے کے ریٹرننگ آفیسر پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے کریں گے اور یہ الیکشن کمیشن کے سرکاری پلیٹ فارمز ای سی آئی نیٹ ایپ اور ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گے۔ جیسے ہی گنتی شروع ہوگی، پوری ریاست ایک فیصلہ کن مینڈیٹ کی منتظر ہوگی جو تمل ناڈو کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined