قومی خبریں

تمل ناڈو: فلور ٹیسٹ سے عین قبل اے آئی اے ڈی ایم کے میں پھوٹ، ایک گروپ نے ٹی وی کے کو حمایت دینے کا کیا اعلان

اے آئی اے ڈی ایم کے لیڈر سی وی شنموگم نے کہا کہ ’’ہم عوام کے مینڈیٹ کو قبول کرتے ہیں۔ عوام کا مینڈیٹ ٹی وی کے کے لیے نہیں بلکہ وجئے کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تھلاپتی وجئے اسمبلی کی رکنیت کا حلف لیتے ہوئے، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/VijayFansPage">@VijayFansPage</a></p></div>

تھلاپتی وجئے اسمبلی کی رکنیت کا حلف لیتے ہوئے، تصویر ’ایکس‘ @VijayFansPage

 

نئی حکومت کی تشکیل کے بعد تمل ناڈو کی سیاست میں بڑا الٹ پھیر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اے آئی اے ڈی ایم کے اب 2 گروپ میں تقسیم ہو گئی ہے۔ پارٹی لیڈر سی وی شنموگم نے 13 مئی کو ہونے والے فلور ٹیسٹ سے عین قبل وزیر اعلیٰ وجے تھلاپتی کی پارٹی ’تملگا ویتری کژگم‘ (ٹی وی کے) کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

Published: undefined

خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کے مطابق اے آئی اے ڈی ایم کے رکن اسمبلی ویلومنی اور شنموگم کی قیادت والے گروپ نے ٹی وی کے کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے ایک گروپ کے اراکین اسمبلی تمل ناڈو حکومت کی حمایت کے لیے وزیر اعلیٰ وجے سے ملاقات بھی کرنے والے ہیں۔ شنموگم کے مطابق پارٹی سربراہ پلانی سوامی حکومت بنانے کے لیے ڈی ایم کے پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے تھے۔ اسی دوران اے آئی اے ڈی ایم کے رکن اسمبلی ویلومنی نے فوری طور پر پارٹی جنرل کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Published: undefined

اے آئی اے ڈی ایم کے لیڈر سی وی شنموگم نے کہا کہ ’’ہم عوام کے مینڈیٹ کو قبول کرتے ہیں۔ عوام کا مینڈیٹ ٹی وی کے کے لیے نہیں بلکہ وجئے کو وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے ہے۔ ہم وزیر اعلیٰ وجئے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور وزیر اعلیٰ کی قیادت والی ٹی وی کے حکومت کو اپنی حمایت دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا مزید کہا کہ ’’ہم نے ڈی ایم کے کی مخالفت میں اس پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ 53 برسوں سے ہماری سیاست ڈی ایم کے کے خلاف رہی ہے۔ اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے، ڈی ایم کے کی حمایت سے اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ تاہم، ہمارے بیشتر اراکین نے اسے مسترد کر دیا اور اس کی مخالفت کی۔ اگر ہم ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کرتے تو اے آئی اے ڈی ایم کے کا وجود ختم ہو جاتا۔‘‘

Published: undefined

شنموگم نے اس صورت حال کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ہم کسی اتحاد کا حصہ نہیں ہیں اور اب ہماری توجہ اپنی پارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے اور مضبوط بنانے پر ہونی چاہیے۔ اسی لیے ہم نے کامیابی حاصل کرنے والی ٹی وی کے کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined