
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سابق مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا اور دیگر کے خلاف 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد معاملے کی سماعت کے دوران گواہوں کی پیشی میں تاخیر اور انہیں دھمکائے جانے کی شکایتوں پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالت نے اتر پردیش حکومت سے اس سلسلے میں جواب طلب کرتے ہوئے ماتحت عدالت کو مقدمے کی سماعت تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اتر پردیش حکومت کی جانب سے داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گواہوں کو عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ گزشتہ تقریباً دو ماہ کے دوران کسی گواہ سے جرح نہیں ہوئی۔
Published: undefined
بنچ نے کہا کہ ماتحت عدالت کے جج گواہوں کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے قانون کے مطابق سخت اقدامات کریں اور مقدمے کی سماعت کو وقت مقررہ کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک تازہ اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ ایک مقدمے میں 131 گواہوں میں سے اب تک 44 کے بیانات قلم بند ہو چکے ہیں، جبکہ 72 گواہ اب بھی پیش ہونا باقی ہیں۔ دوسرے مقدمے میں 35 میں سے 26 گواہوں کی گواہی مکمل ہو چکی ہے اور 9 گواہوں سے اب بھی پوچھ گچھ باقی ہے۔
Published: undefined
آشیش مشرا کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے عدالت کو بتایا کہ مارچ میں داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ کے بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور اب تک صرف 44 گواہوں کی گواہی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس پر عدالت نے اتر پردیش حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ مارچ سے اب تک کیا کارروائی کی گئی۔
ریاستی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ ہر سماعت میں تین یا چار گواہوں کو طلب کیا جاتا تھا۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک دن میں کم از کم سات یا آٹھ گواہوں کو طلب کیا جانا چاہیے تاکہ کچھ گواہوں کی عدم موجودگی کے باوجود کارروائی جاری رکھی جا سکے۔
Published: undefined
متاثرہ کسانوں کے اہل خانہ کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت سے کہا کہ مقدمے کی سماعت جس انداز میں چل رہی ہے، اس میں سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں گواہوں کو دھمکانے کے الزام میں ایک الگ مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس کی جانچ اب بھی جاری ہے۔
سپریم کورٹ نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ زیر التوا جانچ چار ہفتوں کے اندر مکمل کر کے متعلقہ عدالت میں رپورٹ داخل کی جائے۔ مقدمے کی اگلی سماعت جولائی میں ہوگی۔
واضح رہے کہ تین اکتوبر 2021 کو لکھیم پور کھیری کے تکونیا علاقے میں کسانوں کے احتجاج کے دوران چار کسانوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ الزام ہے کہ ایک اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکل نے کسانوں کو کچل دیا تھا، جس کے بعد مشتعل ہجوم نے گاڑی کے ڈرائیور اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو کارکنوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس تشدد میں ایک صحافی کی بھی جان گئی تھی۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined