
ہندوستان کی تحریک آزادی میں اہم کردار نبھانے والے سبھاش چندربوس کو ’راشٹر پُتر‘ یعنی ’ملک کا بیٹا‘ قرار دینے کا مطالبہ ایک عرضی میں کیا گیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عرضی میں نیتاجی سبھاش چندربوس کی بنائی گئی تنظیم ’آزاد ہند فوج‘ کو ہندوستان کی آزادی کا کریڈٹ دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس عرضی کو سپریم کورٹ کی بنچ نے خارج کر دیا اور مفاد عامہ عرضی داخل کرنے والے وکیل کو پھٹکار بھی لگائی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے وکیل سے کہا کہ آپ میں تبدیلی نہیں آ سکتی، آپ عدالت کا وقت خراب کر رہے ہیں۔
Published: undefined
بنچ نے عرضی دہندہ پی موہنتی سے کہا کہ آپ نے ہمیشہ ایسا ہی کام کیا ہے۔ اس طرح کی عرضیاں آپ کی طرف سے پہلے بھی داخل کی گئی ہیں۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ کے رویہ میں اصلاح نہیں ہوا تو پھر ہم سپریم کورٹ میں آپ کی انٹری پر ہی پابندی لگا دیں گے۔ اتنا ہی نہیں، چیف جسٹس نے پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ آپ پہلے بھی اس طرح کی منمانی عرضیاں داخل کرتے رہے ہیں۔ ایسا کرنا درست نہیں ہے، اور اس سے عدالت کا وقت خراب ہوتا ہے۔
Published: undefined
چیف جسٹس نے عرضی دہندہ وکیل سے پہلے ہی کہا تھا کہ ایسی ہی عرضیاں وہ پہلے بھی داخل کر چکے ہیں، جس پر عرضی دہندہ نے کہا کہ اس بار عرضی مختلف ہے۔ اس پر چیف جسٹس کی بنچ نے سوال کیا کہ آخر اس عرضی کو ڈرافٹ کس نے کیا ہے؟ جواب میں موہنتی نے کہا کہ ’مکھرجی سر‘ نے اسے تیار کیا ہے۔ اس تعلق سے بھی بنچ نے اعتراض ظاہر کیا۔ عدالت نے صاف لفظوں میں کہا کہ یہ عرضی صرف اس لیے ڈالی گئی ہے کہ آپ کو مقبولیت ملے۔ اس سے قبل بھی آپ ایسی ہی عرضیاں لائے ہیں، جنھیں خارج کیا گیا تھا۔ بنچ نے سپریم کورٹ کے رجسٹری محکمہ کو کہا کہ مستقبل میں ان کی کوئی بھی مفاد عامہ عرضی رجسٹر نہ کی جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined