
علامتی تصویر
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آدھار کے استعمال کی قانونی حدود اور اس کے غلط استعمال سے متعلق دائر مفاد عامہ کی ایک عرضی پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے مرکزی حکومت، تمام ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، الیکشن کمیشن اور منفرد شناختی اتھارٹی ہند (یو آئی ڈی اے آئی) کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 7 اگست کو مقرر کی ہے۔
Published: undefined
یہ عرضی وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ آدھار کا استعمال صرف شناخت کے ثبوت کے طور پر کیا جائے اور اسے شہریت، رہائش، پتہ یا تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر قبول نہ کیا جائے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ آدھار قانون 2016 کی دفعہ 9 واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ آدھار نہ تو شہریت کا ثبوت ہے اور نہ ہی رہائش کا، جبکہ یو آئی ڈی اے آئی بھی متعدد مواقع پر واضح کر چکی ہے کہ آدھار صرف شناخت کی تصدیق کے لیے ہے۔
Published: undefined
عرضی کے مطابق قانونی دفعات اور عدالتی فیصلوں کے باوجود آدھار کو مختلف سرکاری اور انتظامی معاملات میں عمر، رہائش اور شہریت کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں اسکولوں میں داخلے، جائیداد کے لین دین، پیدائش کے سرٹیفکیٹ، راشن کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا جیسے معاملات شامل ہیں۔
عرضی میں خاص طور پر نئے ووٹر اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم نمبر 6 میں تاریخ پیدائش اور رہائشی پتے کے ثبوت کے طور پر آدھار کی قبولیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ عمل آدھار قانون، یو آئی ڈی اے آئی کی ہدایات اور عوامی نمائندگی سے متعلق قوانین کے منافی ہے۔
Published: undefined
عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آدھار اندراج کے موجودہ نظام کے تحت ایسے تمام افراد آدھار حاصل کر سکتے ہیں جو کم از کم 182 دن سے ہندوستان میں مقیم ہوں، جن میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق بعض مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کمزور تصدیقی نظام کا فائدہ اٹھا کر آدھار حاصل کر لیتے ہیں اور بعد ازاں اسی بنیاد پر دیگر دستاویزات جیسے راشن کارڈ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، رہائشی سرٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور ووٹر شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ آدھار کے استعمال کو صرف شناختی ثبوت تک محدود رکھنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی جائیں اور ووٹر اندراج کے دوران اسے تاریخ پیدائش اور پتے کے ثبوت کے طور پر ناقابل قبول قرار دیا جائے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined