قومی خبریں

خواتین صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ پر سپریم کورٹ سخت، دہلی پولیس کے اعلیٰ آفیسر کو کیا طلب

منگل کے روز چیف جسٹس سوریہ کانت نے دہلی پولیس کے ایک سینئر آفیسر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے اور الزامات پر وضاحت دینے کی ہدایت دی۔ معاملے کی اگلی سماعت جمعرات کے روز ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

راجدھانی دہلی میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کی کوریج کے دوران خواتین صحافیوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ منگل کے روز چیف جسٹس سوریہ کانت نے اس معاملے پر دہلی پولیس کے ایک سینئر آفیسر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے اور الزامات پر وضاحت کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے کی اگلی سماعت جمعرات کے روز کی جائے گی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے ’نیٹ ورک آف ویمن ان میڈیا، انڈیا‘ (این ڈبلیو ایم آئی) کی عرضی کا ذکر کیا۔ اس میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں، خصوصاً خواتین صحافیوں کی حفاظت کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاہیں گے کہ کوئی سینئر آفیسر یہاں موجود رہیں اور معاملے کی وضاحت دیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو ان الزامات کا جواب دینا ہوگا۔ اندرا جے سنگھ نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں سالیسٹر جنرل کو پہلے ہی اطلاع دی جا چکی ہے۔ سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن نے سپریم کورٹ میں ’فریڈم اسپیچ کلیکٹو‘ کی جانب سے دائر توہین عدالت کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ کرکے سپریم کورٹ کے 10 اکتوبر کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس حکم میں کہا گیا تھا کہ احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے میڈیا اہلکاروں کو پریشان نہ کیا جائے۔ سینئر وکیل چندر ادے سنگھ نے بھی اسی طرح کی ایک دوسری عرضی کے بارے میں بتایا۔

ان عرضیوں کے ذریعے احتجاجی مقامات پر صحافیوں کے ساتھ پولیس کی مبینہ کارروائی کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ این ڈبلیو ایم آئی نے مرکزی حکومت سے ہدایت جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ ایمانداری سے خبریں جمع کرنے یا رپورٹنگ کرنے والی خواتین صحافیوں کے ساتھ محض کسی احتجاج، عوامی اجتماع، بھیڑ کو قابو میں کرنے کی کارروائی یا کسی اہم عوامی تقریب کے دوران موجود ہونے کی وجہ سے بدسلوکی نہ کی جائے۔ عرضی میں جسمانی طور پر ہراساں کرنے، ڈرانے دھمکانے، منمانے طریقے سے حراست میں لینے اور زبردستی ہٹانے جیسی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔