قومی خبریں

ڈی اے بقایہ جات کا معاملہ: سپریم کورٹ نے پنجاب میں توہینِ عدالت کی کارروائی روکی، ادائیگی کا منصوبہ طلب

سپریم کورٹ نے پنجاب کے چیف سیکریٹری کے خلاف ڈی اے بقایہ جات پر فوجداری توہینِ عدالت کارروائی روک دی اور سخت اقدام سے انکار کرتے ہوئے مارچ 2027 تک ادائیگی کا ٹھوس منصوبہ طلب کیا

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو پنجاب کے چیف سیکریٹری کے اے پی سنہا اور دیگر حکام کے خلاف پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی شروع کردہ فوجداری توہینِ عدالت کی کارروائی پر روک لگا دی۔ یہ معاملہ سرکاری ملازمین اور پنشن وصول کرنے والوں کو مہنگائی بھتے (ڈی اے) اور مہنگائی ریلیف (ڈی آر) کی بقایہ اقساط ادا نہ کرنے سے متعلق ہے۔

جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے یہ بھی ہدایت کی کہ سول توہینِ عدالت کی کارروائی میں چیف سیکریٹری کے خلاف کوئی سخت قدم نہ اٹھایا جائے۔ اس حکم کے ذریعے پنجاب حکومت کو دونوں نوعیت کی کارروائیوں میں عبوری راحت ملی ہے۔

عدالت نے ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ مارچ 2027 تک بقایہ جات کی ادائیگی کے لیے ایک ٹھوس منصوبہ پیش کرے۔ بنچ نے واضح کیا کہ وہ ادائیگی کے معاملے پر حکومت سے مثبت جواب کی توقع رکھتی ہے۔ سماعت دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے جسٹس ناگرتنا نے زبانی طور پر حکومت سے پوچھا کہ اسے کتنا وقت درکار ہے اور وہ کتنی رقم جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کچھ مہلت مل گئی ہے، اس لیے وہ مثبت جواب کے ساتھ آئے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ فوجداری توہینِ عدالت کے مقدمے میں اگلی سماعت تک کارروائی رکی رہے گی۔ یہ معاملہ اس وقت عدالتِ عظمیٰ پہنچا جب پنجاب حکومت نے ہائی کورٹ کے ان احکامات کو چیلنج کیا جو بقایہ جات جاری کرنے کی ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بعد شروع کی گئی سول اور فوجداری توہینِ عدالت کی کارروائیوں سے متعلق تھے۔

سول توہینِ عدالت کی کارروائی کے دوران ہائی کورٹ نے چیف سیکریٹری پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ عدالت کے مطابق وہ پہلے جاری کردہ ہدایات کے تحت تعمیلی رپورٹ داخل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ حکومت نے اس سمیت توہینِ عدالت کی کارروائی میں دیے گئے احکامات کے خلاف سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت کی درخواست (ایس ایل پی) دائر کی۔

خیال رہے کہ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے 3 اگست کو فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب حکومت اور پنجاب اسٹیٹ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (پی ایس پی سی ایل) کو اپنے ملازمین اور پنشنرز کو ڈی اے اور ڈی آر کی تمام بقایہ اقساط جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالتی ہدایات پر عمل نہ ہونے کے بعد توہینِ عدالت کی کارروائی شروع ہوئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔