
سپریم کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن جئے رام رمیش نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر انتخابی طریقۂ عمل اصول 1961 میں کی گئی ترمیم کو چیلنج پیش کیا تھا۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے آج سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور الیکشن پینل کو نوٹس جاری کیا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ انتخابی طریقۂ عمل کے اصول میں ترمیم کے ذریعہ سی سی ٹی وی فوٹیج، ویب کاسٹنگ ریکارڈنگ اور امیدواروں کی ویڈیو فوٹیج سمیت الیکٹرانک دستاویزات کی جانچ پر روک لگا دی گئی ہے۔ اسی ترمیم کو جئے رام رمیش نے چیلنج پیش کیا ہے۔ اب اس معاملے میں مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ الیکشن پینل کو بھی اپنا جواب عدالت عظمیٰ میں داخل کرنا ہوگا۔ عدالت نے اس معاملے میں آئندہ سماعت 17 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتہ میں مقرر کیا ہے۔
Published: undefined
جئے رام رمیش نے اس عرضی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ترمیم کو مناسب عوامی بات چیت کے بغیر پیش کیا گیا ہے۔ کانگریس کید لیل ہے کہ یہ قدم جمہوری اقدار کو بنائے رکھنے کے لیے کام کرنے والے اداروں میں بھروسہ کو کم کرتا ہے۔ ابھی حال ہی میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس نے انتخابی طریقۂ عمل سے متعلق کچھ دستاویزات کے عوامی معائنہ پر روک لگا دی ہے۔
Published: undefined
اس معاملے میں حکومت نے جو اپنا نظریہ ظاہر کیا ہے، اس میں بتایا ہے کہ اہم مواد کے بیجا استعمال کو روکنے کے لیے یہ قدم ضروری تھا۔ حالانکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اہم جانکاریوں کو جانچ کے دائرے سے بچاتا ہے اور انتخابات کی شفافیت کو کم کرتا ہے۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ مرکزی حکومت اور الیکشن پینل عدالت میں کیا جواب دیتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined