
سپریم کورٹ آف انڈیا
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جودھپور میں ایک نابالغ لڑکی سے جنسی زیادتی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کی خراب صحت کی بنیاد پر دائر عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) سے ان کی تفصیلی طبی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر ہی یہ طے کیا جائے گا کہ آیا انہیں علاج کی غرض سے محدود مدت کے لیے عبوری ضمانت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔
منگل کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آسارام کی صحت سے متعلق مکمل اور تازہ طبی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سے قبل عدالت نے راجستھان حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ آسارام کی طبی حالت کا جائزہ لے کر عدالت کو آگاہ کرے کہ آیا ان کی صحت اس حد تک متاثر ہے کہ انہیں کچھ عرصے کے لیے عبوری ضمانت دی جا سکے۔
راجستھان حکومت نے آسارام کی عبوری ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا تھا کہ آسارام اس وقت مجموعی طور پر صحت مند ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً تین ماہ قبل آسارام ایودھیا اور کاشی وشوناتھ مندر گئے تھے، جہاں انہوں نے پیدل بھی سفر کیا تھا۔
تشار مہتا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آسارام کو نظام ہاضمہ سے متعلق ایک عارضی طبی مسئلے کے باعث خون آنے کی شکایت ہے، جس کا علاج جاری ہے۔ ان کے مطابق موجودہ طبی معلومات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ وقتی نوعیت کا ہے اور ان کی حالت اتنی تشویش ناک نہیں ہے کہ فوری طور پر عبوری ضمانت کی ضرورت پیش آئے۔
اس موقع پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر ان کی حالت اتنی سنگین نہیں ہے تو صورتحال مختلف ہوگی، تاہم اگر طبی حالت واقعی تشویش ناک ہوئی تو عدالت یہ نہیں چاہے گی کہ بعد میں کسی پر یہ الزام عائد کیا جائے کہ مناسب طبی سہولت یا قانونی راحت فراہم نہیں کی گئی۔
دوسری جانب، آسارام کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کی صحت سنگین نوعیت کی ہے اور انہیں اب بھی طبی اعتبار سے بلند خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آسارام کو علاج کے مقصد سے عبوری ضمانت دی جائے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ پہلے ریاستی حکومت اور طبی ماہرین کی رپورٹ کا انتظار کرے گی۔ اگر طبی رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آسارام کی حالت واقعی تشویش ناک ہے تو عدالت صرف علاج کی غرض سے محدود مدت کے لیے عبوری ضمانت دینے پر غور کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ آسارام کو سنہ 2018 میں جودھپور کی خصوصی پوکسو عدالت نے اپنے آشرم میں ایک نابالغ طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں راجستھان ہائی کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا۔ اس کے علاوہ وہ گجرات میں اپنی ایک خاتون شاگرد کے ساتھ جنسی استحصال کے مقدمے میں بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ عبوری طبی ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد انہوں نے 28 مئی کو جودھپور سینٹرل جیل میں خود سپردگی کر دی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔