
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (ایس سی؍ایس ٹی) کے لیے ریزرویشن کے حوالے سے منگل کو سپریم کورٹ نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ معاملے میں سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت سے رپورٹ طلب کی کہ اس آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد کیا کارروائی کی گئی ہے، جس نے ایس سی اور ایس ٹی ریزرویشن کو کوٹہ کے اندر کوٹہ بنانے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ایس سی اور ایس ٹی ریزرویشن میں کریمی لیئرلاگو کرنے پر بھی زور دیا تھا۔
Published: undefined
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کے لیے ریزرویشن سے کریمی لیئر کو خارج کرنے کے لیے معیار طے کرنے کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ بتادیں کہ او پی شکلا اور سمتا آندولن سمیتی کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن سے کریمی لیئر کو باہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے 2024 میں 7 ججوں کے ذریعہ سنائے گئے فیصلے پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ یکم اگست 2024 کو سپریم کورٹ نے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے ریزرویشن سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا تھا۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، بی آر گوائی، وکرم ناتھ، بیلا ایم ترویدی، پنکج متھل، منوج مشرا اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بینچ نے ایس سی؍ایس ٹی ریزرویشن کو زمروں میں بانٹنے کا اخؒتیار ریاستی حکومت کو دیا تھا۔
Published: undefined
ایس سی اور ایس ٹی افراد کے درمیان مساوی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی حکومتوں کو ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن کی درجہ بندی کرنے یعنی کوٹہ کے اندر کوٹہ بنانے کی منظوری دی تھی تاہم سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ تمام زمروں کی بنیاد منصفانہ ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ، آئینی بنچ نے ایس سی-ایس ٹی ریزرویشن میں کریمی لیئر سسٹم کو نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔
Published: undefined
او پی شکلا اور سمتا آندولن سمیتی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کو نافذ کرنے کی مانگ کی تھی۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس کو بنیاد بناکر مرکز اور ریاستوں کو رہنما خطوط جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی گزاروں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو یونین اور ریاستی خدمات میں ذیلی درجہ بند ایس سی اور ایس ٹی کی نمائندگی کی کمی کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ہدایت کرے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined