
سپریم کورٹ آف انڈیا
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے عدالتی کارروائی کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کے غیر مجاز استعمال، اس میں ردوبدل اور تجارتی مقاصد کے لیے استحصال پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اس سلسلے میں تیار کیے جانے والے مجوزہ پالیسی فریم ورک میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے بھی مناسب اقدامات شامل کیے جائیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے جمعہ کو الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (مائٹی) کو رواں سال جولائی میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے عبوری احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ وزارت کو عبوری ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضروری کارروائی کے اقدامات بھی مجوزہ پالیسی فریم ورک کا حصہ بنائے جائیں۔
یہ ہدایات اس وقت سامنے آئیں جب سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ کے استعمال کو ضابطے میں لانے کے لیے پالیسی تیار کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ہائی کورٹس اور قانونی برادری کے ارکان سے موصول ہونے والی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ موصولہ تجاویز سپریم کورٹ کی رجسٹری کو بھیج دی گئی ہیں۔ ان تجاویز کو شامل کرتے ہوئے ایک پالیسی فریم ورک تیار کیا جائے گا، جسے عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے عدالت کو عبوری پابندیوں کی خلاف ورزی کے بعض واقعات سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ان پابندیوں کے باوجود اپ لوڈ کیے گئے مواد کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹایا جانا چاہیے۔
عدالت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ عبوری ہدایات پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے اور واضح کیا کہ مجوزہ پالیسی میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کا طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ڈیجیٹل واٹر مارکنگ، مستند ریکارڈنگ اور عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کے مجاز استعمال جیسے اقدامات پر بھی غور کیا۔
دراصل سپریم کورٹ نے عدالتی کارروائی کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کو سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے غیر مجاز طریقے سے حاصل کرنے، اس میں ردوبدل کرنے، نشر کرنے اور اس سے مالی فائدہ اٹھانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش ظاہر کی تھی۔
اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے عبوری حکم کے ذریعے عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگ کو اپنی اجازت کے بغیر نکالنے، شیئر کرنے، اپ لوڈ کرنے، دوبارہ نشر کرنے، اس میں ترمیم کرنے، محفوظ کرنے یا اس کی میزبانی کرنے پر پابندی عائد کی تھی۔ اس کے لیے سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل یا متعلقہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کی پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی تھی۔
تاہم عدالت نے واضح کیا تھا کہ ان پابندیوں کا اطلاق تسلیم شدہ نیوز اداروں کی عدالتی رپورٹنگ پر نہیں ہوگا۔ بعد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ میڈیا ادارے عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ تو کر سکتے ہیں، لیکن اپنی خبروں میں عدالتی کارروائی کے آڈیو یا ویڈیو کلپس استعمال نہیں کر سکتے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں تمام ہائی کورٹس اور بڑے سوشل میڈیا و ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو بھی فریق بنایا ہے اور عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ اور ریکارڈنگ کے لیے یکساں رہنما اصول تیار کرنے کے سلسلے میں ان سے تجاویز طلب کی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔